نئے یو این چیف کے انتخاب کے لیے رکن ممالک سے نامزدگیاں طلب
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور نے ایک مشترکہ خط جاری کرتے ہوئے ادارے کے آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب اور تقرری کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش 2026 کے اختتام پر عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
جنرل اسمبلی کی صدر اینا لینا بیئربوک اور رواں ماہ سلامتی کونسل کے صدر سیرالیون کے سفیر کی جانب سے جاری کردہ اس خط میں رکن ممالک کو عہدے کے لیے اپنے امیدوار نامزد کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مشترکہ خط کا جلد از جلد اجرا اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ انتخاب اور تقرری کا عمل بلاتاخیر شروع ہو سکے اور جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کو مشاورت کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔
خط میں تمام ممالک سے پرزور درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس منصب کے لیے خواتین کو نامزد کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کریں اور علاقائی تنوع کو اہمیت دیں۔
نئے سیکرٹری جنرل سے توقعات
جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کی صدر اینالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا انتخاب اقوام متحدہ کے لیے ایک فیصلہ کن موقع پر ہو رہا ہے جب دنیا کو بگڑتے تنازعات، تیزی سے بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران، بے پایاں انسانی ضروریات، پائیدار ترقی کے ایجنڈا کی تکمیل میں مسلسل رکاوٹوں اور انسانی حقوق پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی قیادت میں کثیرالفریقی نظام مالی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے جبکہ اس وقت دنیا کو اقوام متحدہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہ واحد ادارہ ہے جو دنیا کی تمام اقوام کو یکجا کر سکتا ہے اور حقیقی بین الاقوامی کردار ادا کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہی واحد ادارہ ہے جسے عالمی سطح پر سیاسی جواز اور اخلاقی اتھارٹی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا آئندہ سیکرٹری جنرل سے توقع رکھتی ہے کہ اقوام متحدہ کے تین بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، انسانی حقوق اور ترقی پر مضبوط، پرعزم اور موثر قیادت کا مظاہرہ کیا جائے گا اور ادارے کو مستقبل کے تقاضوں کے قابل بنایا جائے گا۔