ریاض کانفرنس: خواتین کی شمولیت کے بغیر صنعتی ترقی بے معنی
انجینئر سے کاروباری شخصیت بننے والی افریقہ کی نورہ ماگیرو جیسی غیر معمولی خواتین ثابت کر رہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے ذاتی تجربہ اور اختراع پرامید تصورات کو کامیاب اداروں میں بدل سکتا ہے۔ یہ مثالیں ایسے معاشروں میں بھی ملتی ہیں جہاں خواتین کی آواز کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
مشرقی کینیا کی رہنے والی کم عمر ماں کے طور پر نورہ ماگیرو کو اپنے بچے کے لیے قابل اعتماد طبی سہولیات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے خود ان کا حل ڈھونڈنے کی ٹھانی۔ وہ کہتی ہیں کہ افریقہ کے بہت سے ممالک میں دیہی علاقوں کے مراکز صحت کے لیے ویکسین، خون اور انسولین کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ اور منتقل کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ان علاقوں میں ہر وقت بجلی میسر نہیں ہوتی۔
ماگیرو نے اپنی انجینئرنگ کی تعلیم اور تجربے سے کام لیتے ہوئے ڈراپ ایکسیس نامی ادارہ قائم کر کے ویکسی باکس نامی ریفریجریٹر ایجاد کیا۔ یہ شمسی توانائی سے چلنے والا جدید موبائل ریفریجریٹر ہے جسے موٹر سائیکل یا گدھا گاڑی پر بھی کسی جگہ لے جایا جا سکتا ہے اور اس کی بدولت ادویات مطلوبہ درجہ حرارت پر ٹھنڈی رہتی ہیں۔
ویکسی باکس کی ایجاد دوسروں کو مدد دینے کی سمت صرف پہلا قدم تھا۔ مقامی روابط کے ذریعے انہیں صنعتی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یونیڈو) کے بارے میں علم ہوا اور اس تک رسائی حاصل کر کے وہ آج کامیاب کاروباری خاتون بن گئی ہیں۔
مشمولہ صنعتی مستقبل
آج ڈراپ ایکسیس اپنی مصنوعات کینیا، تنزانیہ، زیمبیا اور آئیوری کوسٹ میں بھی فروخت کر رہا ہے اور پورے افریقہ و جنوب مشرقی ایشیا میں وسعت اختیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ ماگیرو کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری یونیڈو کی عالمی صنعتی کانفرنس میں کامیاب کاروباری خاتون کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔
کانفرنس میں خواتین کو بااختیار بنانے اور صنعت و معیشت کے مستقبل میں ان کے کردار کے حوالے سے گزشتہ روز ایک مکمل دن مختص کر کے واضح پیغام دیا گیا کہ صنعت کا مستقبل سب کے لیے مشمولہ ہونا چاہیے۔ اس موقع پر خواتین موجدین، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں کے کردار کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا جبکہ ان رکاوٹوں پر بھی بات کی گئی جو اب بھی صنعت میں خواتین کی مکمل شمولیت کو محدود کر دیتی ہیں۔
ٹیکنالوجی اور صنفی مساوات
یونیڈو میں پالیسی کے شعبے کی سربراہ سسیلیا ایسٹراڈا نے کہا ہے کہ دہائیوں کی محنت اور کوششوں کے باوجود اب بھی ان شعبوں خصوصاً ہائی ٹیک، ڈیجیٹل اور ماحول دوست مصنوعات کی صنعتوں میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے جبکہ یہ شعبے انسانیت کا مستقبل تشکیل دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، مینوفیکچرنگ، توانائی اور زرعی صنعتوں میں قیادت اور صنفی اجرت کے فرق برقرار ہیں۔
نورہ ماگیرو جیسی خواتین کاروباری رہنماؤں کو فراہم کی جانے والی معاونت میں ایسے پروگرام شامل ہیں جو خواتین کے لیے مالیاتی منڈیوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن بناتے ہیں اور ان کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ انہیں مستقبل کی صنعتوں میں قیادت کے لیے تیار کیا جا سکے۔
آج کانفرنس ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب یونیڈو کے رکن ممالک نے صنعتی ترقی میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق قرارداد منظور کی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ادارے کی تمام کارروائیوں، پروگراموں اور شراکتوں میں صنفی مساوات کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
تبدیلی کی مثال
ماگیرو کا کہنا ہے کہ وہ یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ خواتین کو کمپنی میں مساوی روزگار اور قیادت کے مواقع ملیں۔ ادارے کے ہر شعبے میں خواتین اور مردوں کا تناسب برابر ہے۔ یہ مساوات یقینی بنانا ان کا شعوری فیصلہ تھا۔ وہ ماضی میں اس امتیاز کے بارے میں بات کر چکی ہیں جو انہیں اس معاشرے میں سہنا پڑا جہاں خواتین کی ضروریات کو کم اہمیت دی جاتی تھی۔
انہوں نے 2022 میں یو این نیوز کو بتایا کہ وہ ایسی کتابوں اور تعلیمی مواد کے ساتھ پلی بڑھیں جن میں خواتین کو اپنے بچے کندھے پر اٹھائے، باورچی خانے میں محنت کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا جبکہ مرد بریف کیس اٹھا کر کام پر جا رہے ہوتے یا گریجوایشن گاؤن پہنے ہوتے تھے۔ یہ بصری پیغام واضح کرتا تھا کہ خواتین اور مردوں کی جگہ کہاں ہے۔
تین سال بعد انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود کینیا میں خواتین کاروباری منتظم کی حیثیت سے بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔