ریاض کانفرنس: نامیاتی زراعت اور سونگھنے والی مصنوعی ذہانت مرکز توجہ
اقوام متحدہ کی عالمی صنعتی کانفرنس کے دوسرے روز سرمایہ کاری اور شراکتیں موضوع بحث رہیں اور جامع و ڈیجیٹل معیشتوں کو وسعت دینے کے منصوبے پیش کیے گئے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یونیڈو) کا 21واں عمومی اجلاس بھی ہے۔ ادارے میں اختراع اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کے سربراہ جیسن سلیٹر نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ایسے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے جن کا لوگوں کو روزمرہ زندگی میں عام سامنا ہوتا ہے۔
مصںوعی ذہانت نجی شعبے، اقوام متحدہ، حکومتوں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں جیسے ترقیاتی شراکت داروں کو ایک ساتھ لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس سے مسائل کی شناخت آسان ہوتی ہے اور ان کے مشترکہ حل تک رسائی میں ملتی ہے۔
سلیٹر کا کہنا تھا کہ یونیڈو کے کام کا ایک اہم پہلو ترقی پذیر دنیا کو ٹیکنالوجی تک رسائی دلانا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یونیڈو ایک ایسے نئے ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہے جس نے مصنوعی ذہانت کی چپ بنائی ہے جو خوراک کو سونگھ سکتی ہے، کھانے کے اجزا کو پہچانتی ہے، خوراک کے ضیاع کی نشاندہی کرتی ہے اور اس طرح کمپنی اپنی پیداوار بہتر بنا سکتی ہے۔
مضبوط شراکت داری
کانفرنس میں شریک'نیچر بائیو فوڈز' نامی ادارے میں پائیداری سے متعلق شعبے کے سربراہ امیت سنگھ کا کہنا تھا کہ کامیابی کی بنیاد مضبوط شراکت داری ہے جس کے بغیر ان کے ان کی کمپنی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ ان کے ادارے کو یونیڈو پائیداری ایواڈ سے نوازا گیا ہے جو خوراک کی کاشت سے لے کر کھانے کی میز تک ہر مرحلے میں پائیداری کے لیے ان کے کام کا اعتراف ہے۔
امیت سنگھ نے یو این نیوز کو بتایا کہ ان کا بنیادی شعبہ نامیاتی کاشتکاری ہے جو جدید سائنسی تحقیق کو روایتی طریقوں سے جوڑتا ہے تاکہ مٹی کو نقصان پہنچائے بغیر غذائیت سے بھرپور خوراک پیدا کی جا سکے۔ یہ دو طرفہ فائدہ ہے کیونکہ اس کاروباری نمونے نے انڈیا کے ہزاروں کسانوں کو اعلی معیار کی پائیدار پیداوار اگانے کے ساتھ اچھی آمدنی کمانے کا موقع دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں ہی انہوں نے شمسی توانائی اور چاول کی کاشت میں میتھین کے اخراج پر قابو پانے جیسے سائنسی طریقے اپنا کر ماحولیاتی بہتری میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
یہ منصوبہ تقریباً ایک لاکھ چھوٹے کسانوں کو منڈیوں تک رسائی اور بہتر روزگار مہیا کرتا ہے جبکہ منافع مقامی لوگوں کے لیے فلاحی سرگرمیوں جیسا کہ پینے کے صاف پانی اور سکولوں کے لیے وسائل کی فراہمی پر خرچ کیا جاتا ہے۔
اختراع اور تخلیقی معیشت
اعلیٰ تعلیم کے ادارے بھی نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام ترتیب دے رہے ہیں جو انہیں بااختیار بنانے کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ شراکت داری اور سرمایہ کاری کیوں اہم ہیں اور وہ خود اس عمل کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔ امریکہ کے ہاورڈ لیہمن انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ پروگرام کے ڈائریکٹر سیم میگی نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے طلبہ سے کہتے ہیں کہ کاروباری مہارت سیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دنیا میں نکل کر اپنی زندگی کے مسائل اور ان کے حل کا خود اندازہ لگائیں۔
انہوں نے تجربات کے تبادلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کانفرنس میں نہ صرف سماجی طور پر اثرانداز ہونے والی اختراعات بلکہ تخلیقی معیشت اور نوجوان مرد و خواتین کی بااختیاری کے لیے بھی بے مثال تعاون دیکھنے کو ملا۔
سیم میگی کا کہنا تھا کہ یہی وہ مثبت تبدیلی ہے جس کی خواہش بہت سے ممالک کو ہے خصوصاً جو جنگ و تباہی سے ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے صنعتی چیمبر کے سربراہ نے بتایا کہ وہ تقریباً 14 برس تک ترقی کے عمل سے باہر اور دنیا سے کٹے رہے اور اب انہیں “یونیڈو جیسے اداروں کی شراکت داری درکار ہے تاکہ ترقی کے خلا کو پر کیا جا سکے۔