انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ابھرتی ملٹی پولر دنیا میں بین الاقوامی تعاون انتہائی اہم، یو این چیف

UN سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس الجزائر میں AU-EU سربراہی اجلاس کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
United Nations/Carlos Cesar سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش انگولا میں افریقن یونین اور یورپی یونین کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

ابھرتی ملٹی پولر دنیا میں بین الاقوامی تعاون انتہائی اہم، یو این چیف

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقت مختلف خطوں میں تقسیم ہونے لگی ہے۔ اگر بین الاقوامی تعاون کو بہتر اور مضبوط نہ بنایا گیا تو یہ تبدیلی منفی مسابقت اور کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔

انہوں نے انگولا میں افریقن یونین اور یورپی یونین کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ محض کثیر قطبیت امن کی ضمانت نہیں ہوتی اور توازن پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک عمل میں اضافہ کرنا ہو گا۔

Tweet URL

افریقہ اور یورپ باہم مل کر مزید منصفانہ عالمی نظام کی مرکزی کڑی بن سکتے ہیں۔ اس شراکت سے تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے اور ان ممالک کو حقیقی نمائندگی مل سکتی ہے جنہیں عالمی فیصلہ سازی میں برسوں سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

مالیاتی نظام میں اصلاحات

سیکرٹری جنرل نے تعاون کے تین بنیادی شعبوں کی نشاندہی کی جہاں براعظموں کی مشترکہ کوششیں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے سب سے پہلے عالمی مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے قواعد غیرمنصفانہ اور غیر مؤثر ہیں جس کے باعث کئی افریقی ممالک قرض میں جکڑے ہیں اور ترقیاتی سرمایہ کاری کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

انہوں نے غیر پائیدار قرضوں کے خاتمے، ترقیاتی بینکوں کی قرض دینے کی استعداد کو تین گنا بڑھانے اور ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ افریقہ میں شمسی اور ہوائی توانائی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ علاوہ ازیں اس براعظم میں ایسی معدنیات بھی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہیں جو ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری ہیں اور ان کی عالمی طلب 2030 تک تین گنا ہو جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ افریقہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محض خام مال برآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر پراسیسنگ اور مینوفیکچرنگ کے ذریعے دیرپا معاشی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے پاس وسائل اور نوجوان افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں جبکہ یورپ کے پاس سرمایہ اور مہارت ہے۔ اس طرح قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی پر شراکت داری دونوں خطوں کے لیے طویل المدتی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

افریقہ یورپ اتحاد کے امکانات

انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی زور دیا اور کہا کہ گزشتہ برس منظور ہونے والا معاہدہ برائے مستقبل اس حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے میں سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نشستوں کی تجویز بھی شامل ہے جسے انہوں نے شدید تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے ضروری قرار دیا۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی سے سلامتی کونسل بحرانوں کا بہتر اور زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے گی۔

انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ عالمی طاقت کی ترتیب تیزی سے بدل رہی ہے اور تقسیم کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ دنیا کو ٹکراؤ پر مبنی نہیں بلکہ باہم پیوسط کثیر قطبیت کی ضرورت ہے۔ مزید منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی تشکیل کے لیے عالمی مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی تعاون میں تیزی اور امن و سلامتی کے ڈھانچے کی تنظیم نو خصوصاً سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی ناگزیر ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افریقہ اور یورپ کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اکٹھےہو کر ان تبدیلیوں کی قیادت کریں اور موجودہ عالمی بے یقینی کو امید کے ایک نئے دور میں بدل ڈالیں۔