انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کشمیر: انسانی حقوق کی ’پامالیوں‘ پر یو این ماہرین کو گہری تشویش

ایک سیکورٹی آپریشن کے دوران ہندوستان کے جموں و کشمیر کے زبروان جنگل میں دیہی سڑک پر بکتر بند گاڑی میں سیکورٹی اہلکار۔
© PTI انڈین آرمی کے اہلکار سری نگر میں گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

کشمیر: انسانی حقوق کی ’پامالیوں‘ پر یو این ماہرین کو گہری تشویش

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد انڈین حکام کی جانب سے حقوق کی مبینہ پامالیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین نے پہلگام واقعے کی مذمت اور اس میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانون سے تعزیت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔

Tweet URL

22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے میں 26 شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ واقعہ کے بعد حکام نے جموں و کشمیر میں تقریباً 2,800 افراد کو حراست میں لیا جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل تھے۔

ان میں بعض افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا، جن کے تحت کسی کو الزام یا مقدمے کے بغیر طویل عرصہ تک قید میں ڈالا جا سکتا ہے جبکہ ان قوانین میں دہشت گردی کی وسیع اور مبہم تعریف کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں بیرونی دنیا سے الگ رکھا گیا اور وکلا و اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

حق زندگی اور وقار کی پامالی

ماہرین نے ناجائز گرفتاریوں، حراست میں مشتبہ اموات، تشدد، دیگر ناروا سلوک اور کشمیری و مسلمان برادریوں کے خلاف ہجوم کے تشدد اور امتیاز کی اطلاعات کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

انہوں نے گھروں کی مسماری اور لوگوں کی جبری بے دخلی کے واقعات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ یہ کارروائیاں عدالتی احکامات کے بغیر اور خلاف قانون طور سے کی گئیں۔ ایسے اقدامات اجتماعی سزا کے مترادف اور انڈیا کی سپریم کورٹ کے گزشتہ سال دیے جانے والے  فیصلے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں جس نے ایسی کارروائیوں کو حق زندگی اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا تھا۔

ماہرین نے مواصلاتی پابندیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی سلب کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکام نے پہلگام واقعے کے بعد اپنی کارروائیوں کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور سوشل میڈیا پر 8,000 اکاؤنٹ بلاک کر دیے، جن میں صحافیوں اور آزاد میڈیا کے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔

حقوق کی سنگین پامالی

حملے کے بعد انڈیا کے دیگر حصوں میں بھی ان اقدامات کے اثرات محسوس کیے گئے۔ یونیورسٹیوں میں کشمیری طلبہ کو اپنے ذاتی کوائف جمع کرانے کو کہا گیا اور انہیں نگرانی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمان شہریوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے واقعات میں اضافہ ہوا جنہیں حکمران جماعت کے سیاسی رہنماؤں نے ہوا دی۔ گجرات اور آسام میں ہزاروں مسلمانوں کے گھروں، مساجد اور کاروباروں کو مسمار کر دیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 1,900 مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو بھی بنگلہ دیش اور میانمار واپس بھیج دیا گیا۔ ایسے واقعات پناہ گزینوں کو ان کی منشاء کے بغیر ایسے ملک واپس نہ بھیجنے کے اصول کی خلاف ورزی ہیں جہاں انہیں سنگین خطرات لاحق ہوں۔

ماہرین نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تسلسل پر بھی روشنی ڈالی ہے جہاں عرفان مہاراج اور خرم پرویز جیسے انسانی حقوق کے محافظ سلامتی سے متعلق جارحانہ قوانین کے تحت برسوں سے قید ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی اور پالیسیوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور تمام مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات سمیت ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ اقدامات نہ صرف انسانی وقار، آئین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سماجی تقسیم اور ایسے تنازعات کو ہوا دیتے ہیں جن سے تشدد کی آگ مزید بھڑکے گی۔

انہوں نے انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔