انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کیا ترقی پذیر ممالک آلودگی سے پاک صنعتی ترقی کر سکتے ہیں؟

لاؤس کی الیکٹرونک فیکٹری میں برآمدات کے لیے اشیاء تیار کی جا رہی ہیں۔
© ADB/Ariel Javellana
لاؤس کی الیکٹرونک فیکٹری میں برآمدات کے لیے اشیاء تیار کی جا رہی ہیں۔

کیا ترقی پذیر ممالک آلودگی سے پاک صنعتی ترقی کر سکتے ہیں؟

معاشی ترقی

کیا ترقی پذیر ممالک میں معیار زندگی بڑھانے کے اقدامات کا لازمی نتیجہ ایسی صنعتوں میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جو معدنی ایندھن پر انحصار کرتی اور آلودگی پھیلاتی ہیں یا اس کا کوئی ماحول دوست متبادل بھی ہے؟

آئندہ ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مینوفیکچرنگ اور صنعتی ترقی پر عالمی سربراہ اجلاس (جی ایم آئی ایس) میں یہی سوال زیربحث آئے گا۔ اس موقع پر حکومتوں کے نمائندے، کاروباری رہنما اور اختراع کار ایک جگہ جمع ہوں گے تاکہ خوشحالی اور پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔

23 تا 27 نومبر ہونے والے اجلاس میں 150 سے زیادہ ممالک کے 3,000 سے زیادہ شرکا اپنے خیالات و تجربات کا تبادلہ کریں گے۔

ماحول دوست صنعتکاری

یہ اجلاس رکن ممالک کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ صنعتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے منصوبے اور اقدامات پیش کریں۔

افریقی ملک نمیبیا کے علاقے ڈورس میں شروع کیا گیا ایک منصوبہ اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت قابل تجدید ذرائع توانائی سے ہائیڈروجن اور امونیا پیدا کی جائے گی اور اس طرح کاربن سے پاک ماحول دوست کھاد تیار کر کے درآمد پر انحصار میں کمی لائی جائے گی۔ اس منصوبے سے ثابت ہوتا ہے کہ معیشتیں معدنی ایندھن پر انحصار کیے بغیر بہت سے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔

یہ منصوبہ پورےعلاقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے جس میں زراعت اور فصلیں اگانے کی تربیت بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، شمسی توانائی سے چلنے والا ٹماٹر پراسیسنگ پلانٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ مقامی پیداوار کی قدر بڑھ سکے اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں۔ توقع ہے کہ اس سے 1,000 سے زیادہ لوگوں کو پائیدار روزگار اور غذائی تحفظ حاصل ہو گا۔

اجلاس کے موضوعات

1966 میں اپنے قیام کے بعد یونیڈو نے اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے مشمولہ و پائیدار صنعتی ترقی کو بنیاد بنایا ہے۔ اجلاس میں ادارے کے لیے یہ ثابت کرنےکا موقع ہو گا کہ وہ کس طرح ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی صنعتیں تعمیر اور تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ اجلاس شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سنٹر میں ہو گا جس میں تین روز تک مختلف موضوعات پر فورم منعقد ہوں گے۔

  • سرمایہ کاری اور شراکت داری کا دن: اس روز عالمی تعاون اور صنعتی تبدیلی میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بات چیت ہو گی۔
     
  • خواتین کی بااختیاری کا دن: اس میں صنعتوں کے مستقبل کی تشکیل میں خواتین کی قیادت کو اجاگر کیا جائے گا۔
     
  • نوجوانوں اور ان کی صلاحیتوں کا دن: اس میں نئی نسل کے لیے جدت اور کاروباری صلاحیت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اجلاس میں دیگر اہم موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے جن میں کاربن کے اخراج میں کمی، ڈیجیٹلائزیشن، خوراک کی سلامتی، اور شمولیتی ترقی شامل ہیں۔

متوقع طور پر اجلاس میں ایسے مضبوط وعدے اور شراکتیں سامنے آئیں گی جن سے پائیداری، مساوات اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی منصفانہ عالمی معیشت کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔