انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان میں ہر تیسرا بالغ فرد ذیابیطس کا شکار، عالمی ادارہ صحت

گہرے جامنی رنگ کی نیل پالش والا شخص اپنی انگلی کو باہر رکھتا ہے جبکہ دوسرا شخص ذیابیطس کے ٹیسٹ کے لیے بلڈ گلوکوز میٹر کا استعمال کرتا ہے۔
Marcelo Camargo/Brazil Agency. پاکستان کا شمار ذیابیطس سے متاثرہ دنیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

پاکستان میں ہر تیسرا بالغ فرد ذیابیطس کا شکار، عالمی ادارہ صحت

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جن میں ایک چوتھائی بالغ ہیں۔

14 نومبر کو منائے گئے زیابیطس کے عالمی دن پر 'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ پاکستان کا شمار اس مرض سے متاثرہ دنیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے اور مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں اس بیماری کے مجموعی مریضوں میں 40 فیصد سے زیادہ کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ؜؜؜؜؜؜؜'ڈبلیو ایچ او' اور ملک کی حکومت نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنا کر اس بیماری سے بچنے کی کوشش کریں۔

رواں ہفتہ 'ڈبلیو ایچ او' اور پاکستان کی وزارت صحت مختلف طبی مراکز میں ذیابیطس کی تشخیص کے لیے خصوصی سرگرمیاں منعقد کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دی جا سکے اور ہرعمر کے فرد کو متاثر کرنے والی اس خاموش بیماری کی بروقت تشخیص کو یقینی بنایا جا سکے۔

مریضوں کی بے خبری

خطے میں ذیابیطس کے شکار 40 فیصد افراد کو اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جس سے ان میں سنگین طبی مسائل جیسا کہ بینائی ختم ہونے، گردوں کی خرابی، دل کے دورے، فالج اور ٹانگ کٹنے جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ذیابیطس کے عالمیِ دن پر پاکستان میں اس بیماری سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور وزارت صحت 'وزیراعظم ذیابیطس پروگرام' کے ذریعے ابتدائی معائنے، مفت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مرض کے خطرے کو جانیں، تشخیص کرائیں اور صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی جیسی چند سادہ عادات اپنائیں۔ انہوں نے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے میں حکومت کے شراکت داروں اور ذرائع ابلاغ کے کردار کو بھی سراہا۔

غریب ممالک میں پھیلتی بیماری

پاکستان میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈا پنگ نے کہا ہے کہ ذیابیطس ایک خاموش قاتل ہے تاہم صحت مند طرز زندگی اور باقاعدہ طبی معائنوں کے ذریعے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

دنیا بھر میں ذیابیطس کے شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 2022 میں 830 ملین ہو گئی جو 1990 میں 200 ملین تھی۔ یہ مرض زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں کہیں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے اور صحت مند غذا، ورزش، بروقت تشخیص، حسب ضرورت علاج، تمباکو سے پرہیز اور چینی کے استعمال میں کمی سے اس کی تمام اقسام کے اثرات کو کم یا موخر کیا جا سکتا ہے۔