انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنسی مرض سوزاک اینٹی بائیوٹیک کے خلاف مزاحم، ڈبلیو ایچ او

بنگلہ دیش میں ایک طبی کارکن سیکس ورکروں کو کنڈوم استعمال کرنے کی اہمیت بارے آگہی دے رہی ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani
بنگلہ دیش میں ایک طبی کارکن سیکس ورکروں کو کنڈوم استعمال کرنے کی اہمیت بارے آگہی دے رہی ہیں۔

جنسی مرض سوزاک اینٹی بائیوٹیک کے خلاف مزاحم، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن سوزاک جراثیم کش دواؤں کے خلاف تیزی سے مزاحمت پیدا کر رہا ہے۔

ادارے نے دنیا بھر میں جراثیمی مزاحمت کے پھیلاؤ کی نگرانی کے پروگرام سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ 2022 سے 2024 کے درمیانی عرصہ میں سوزاک کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بنیادی ادویات سیفٹریکسون اور سیفکسائم کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت بالترتیب 0.8 فیصد سے 5 فیصد اور 1.7 فیصد سے 11 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ ایزیتھرومائسن کے خلاف مزاحمت 4 فیصد پر مستحکم رہی جبکہ سیپروفلوکساسن کے خلاف مزاحمت 95 فیصد تک پہنچ گئی۔ سب سے زیادہ مزاحمتی شرح کمبوڈیا اور ویت نام میں دیکھی گئی۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' نے یہ پروگرام 2015 میں شروع کیا تھا جو مختلف ممالک میں قائم منتخب مراکز سے لیبارٹری کے نتائج اور طبی معلومات اکٹھی کرتا ہے تاکہ جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کا سراغ لگایا جائے اور علاج کے رہنما خطوط کو بہتر بنایا جا سکے۔

ادارے میں ایچ آئی وی، تپ دق، ہیپاٹائٹس اور جنسی بیماریوں کے شعبے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر تریزا کاسائیوا نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں میں اضافے کو سنجیدگی سے لیں اور سوزاک کی نگرانی کو اپنے قومی پروگراموں کا حصہ بنائیں۔

سوزاک کا پھیلاؤ

2024 میں 'ڈبلیو ایچ او' کے پانچ خطوں کے 12 ممالک نے اس پروگرام کو سوزاک سے متعلق معلومات فراہم کیں جبکہ 2022 میں ان کی تعداد صرف چار تھی۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ بیشتر ممالک اس مسئلے کی نگرانی اور اس پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں کمبوڈیا، انڈیا، انڈونیشیا، ملاوی، فلپائن، قطر، جنوبی افریقہ، سویڈن، تھائی لینڈ، یوگنڈا اور ویت نام شامل ہیں جہاں مجموعی طور پر سوزاک کے 3,615 کیس رپورٹ ہوئے۔

سوزاک کے نصف سے زیادہ (52 فیصد) کیس 'ڈبلیو ایچ او'کے مغربی بحرالکاہل خطے سے رپورٹ ہوئے۔ 28 فیصد کیس افریقی خطے سے سامنے آئے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے خطے سے 13 فیصد اور جنوبی امریکا سے 2 فیصد کیس رپورٹ ہوئے۔

مریضوں میں 20 فیصد ہم جنس پرست مرد تھے اور 42 فیصد نے گزشتہ 30 یوم میں متعدد افراد کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کے بارے میں بتایا۔ آٹھ فیصد نے حالیہ ایام میں جراثیم کش ادویات استعمال کرنے کی اطلاع دی جبکہ 19 فیصد نے حالیہ دنوں سفر کیا تھا۔

سوزاک سے متعلق یہ معلومات جراثیمی مزاحمت سے آگاہی کے ہفتے پر جاری کی گئی ہیں جس کا مقصد اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

جراثیمی مزاحمت کی نگرانی

'ڈبلیو ایچ او' نے جراثیمی مزاحمت کے تناظر میں بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، تشخیصی صلاحیت بہتر کرنے اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے علاج تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ تحقیقات مستقبل میں سوزاک پر قابو پانے میں مدد دیں گی۔ تاہم جراثیمی مزاحمت کے پھیلاؤ کی اطلاع دینے والے نظام کو اب بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن میں محدود وسائل، نامکمل رپورٹنگ اور خواتین سے متعلق طبی معلومات کی کمی قابل ذکر ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سوزاک کی جراثیمی مزاحمت کی نگرانی کو برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کے لیے رکن ممالک میں قومی سطح پر نگرانی کے نظام میں فوری سرمایہ کاری ضروری ہے۔