سلامتی کونسل: غزہ میں استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس کے قیام کی منظوری
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی حمایت سے پیش کردہ قرارداد منظور کر لی ہے جس کے تحت غزہ میں نظم و نسق بحال کرنے، شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے اور بڑے پیمانے پر امداد اور تعمیرنو کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی فورس قائم کی جائے گی۔
کونسل میں اس قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کسی رکن نے ووٹ نہیں دیا البتہ روس اور چین نے اس معاملے پر اپنی تشویش کے باعث رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی سفیر مائیک والٹز نے کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے تاریخی اور تعمیری قرار داد قرار دیا جو مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نیا راستہ متعین کرے گی۔
غزہ کی پٹی گزشتہ دو برسوں کی شدید لڑائی سے تباہ ہو چکی ہے۔ اس قرارداد میں غزہ کے اندر بین الاقوامی استحکامی فورس (آئی ایس ایف) تعینات کرنے کی تجویز شامل ہے۔
روس کی جانب سے قرارداد کا ایک متبادل مسودہ بھی باضابطہ طور پر زیرغور ہے۔ مسودے میں دو سالہ ذمہ داری کے ساتھ اس فورس کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو اسرائیل اور مصر کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت کام کرے گی۔
بورڈ آف پیس
یہ قرار داد امریکہ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مبنی تھی جس کا مقصد غزہ میں سکیورٹی قائم کرنا، انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانا اور تعمیرنو کا عمل شروع کرنا تھا۔ اسی منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی۔
اس فورس کو غزہ کی سرحدوں کی حفاظت، شہریوں کے تحفظ، امدادی کوششوں کی معاونت، فلسطینی پولیس کی تنظیم نو، تربیت اور تعیناتی میں مدد دینے اور حماس و دیگر شدت پسند گروہوں سے مستقل طور پر اسلحہ واپس لینے کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
قرارداد کے مطابق، جب یہ فورس غزہ میں سکیورٹی اور آپریشنل کنٹرول سنبھال لے گی، تو اسرائیلی فوجیں واپس چلی جائیں گی۔
غزہ میں 'بورڈ آف پیس' کے نام سے ایک عبوری نظام بھی لایا جائے گا۔ یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور نظم حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
اقوام متحدہ کی عدم شمولیت
قرارداد کی منظوری کے بعد کثیر القومی سکیورٹی مشن کے لیے بین الاقوامی قانونی اختیار بھی میسر آیا ہے۔ یہ ان ممالک اور عطیہ دہندگان کے لیے اہم ہے جو فورس میں دستے یا وسائل فراہم کریں گے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج اس میں شامل نہیں کی گئی۔
قرارداد کے تحت غزہ کو جنگ اور تشدد سے نکال کر مستحکم کرنے اور دوبارہ تعمیر کرنے کے اقدامات شروع کیے جائیں گے اور بہتر حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کو سکیورٹی کی یقین دہانی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔
یہ مسئلہ غزہ میں حالیہ شدید تنازع کے بعد ایک نئے فریم ورک پر اتفاق رائے قائم کرنے کی سلامتی کونسل کی صلاحیت کا امتحان بھی ہے۔
خطے میں شدید انسانی بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل نے اقدام نہ کیا تو دوبارہ لڑائی شروع ہونے اور نازک جنگ بندی کے ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے۔