فلسطینیوں کی جبری بیدخلی ممکنہ جنگی و انسانیت کے خلاف جرم، یو این رپورٹ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ان کے گھروں اور علاقوں سے جبری بے دخلی اور اسرائیلی آبادی کی مقبوضہ علاقے میں منتقلی جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اپنی آبادی کے ایک حصے کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منتقل کر کے مغربی کنارے کی حیثیت اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کر رہا ہے۔ رواں سال مئی کے آخر تک مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد 7,37,000 تک پہنچ چکی تھی، جو 165 بستیوں اور 271 مضافاتی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں 55 بستیاں اس رپورٹ کی تیاری کی مدت کے دوران قائم ہوئیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی یروشلم اور مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر یہ رپورٹ جون 2024 سے مئی 2025 تک کی مدت کا احاطہ کرتی ہے۔
قتل و جبر کا سلسلہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل الزی برینڈز کیریس نے یہ رپورٹ جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے سامنے پیش کی جو سیاسی اور نوآبادیاتی امور کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قتل و جبر کے اس متواتر سلسلے کی بنیادی وجہ پر قابو پایا جانا ضروری ہے اور وہ وجہ فلسطینیوں کے انسانی حقوق، خصوصاً ان کے حق خود ارادیت کا انکار ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔
معاون سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پہلی مرتبہ مغربی کنارے کے ایریا بی میں بھی بستیاں قائم کی گئی ہیں جو کہ تشویش ناک پیش رفت ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے 22 نئی بستیوں کی منظوری کے حوالے سے کہا تھا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں رہے گا۔
تشدد، بے دخلی اور قبضہ
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے امتیازی اور جابرانہ ادارہ جاتی و قانونی نظام نے فلسطینیوں کے لیے اپنے گھر اور زمین خالی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ اس میں زمین اور وسائل پر غیر قانونی قبضہ بھی شامل ہے جسے ریاستی اراضی قرار دے کر ہتھیایا جاتا ہے جبکہ ان کے خلاف گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کا ہتھکنڈہ بھی تواتر سے استعمال ہو رہا ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے عرصہ میں اوسطاً ہر ماہ 366 فلسطینی اپنے گھروں کی مسماری کے باعث بے گھر ہوئے جبکہ گزشتہ رپورٹ کے دورانیے میں یہ تعداد 244 تھی۔
آباد کار اور ریاست فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور زمین پر قبضے کے لیے تشدد سے کام لے رہے ہیں اور اس طرح ان کے حق خود ارادیت کو سلب کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل جلد از جلد مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی آباد کاروں کو علاقے سے نکالے اور فلسطینیوں کےحق خود ارادیت کا احترام کرے۔
جولان: اسرائیلی بستیوں میں توسیع
رپورٹ میں شام کے مقبوضہ علاقے جولان میں اسرائیل کی بستیوں کے پھیلاؤ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، جہاں اسرائیلی حکومت آباد کاروں کی تعداد دوگنا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے ایک ہفتے بعد اسرائیلی فوج بفر زون میں داخل ہوئی، اس نے پورے شام میں فضائی حملے کیے اور اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ جولان کی بستیوں کے توسیعی منصوبوں کے لیے تقریباً 11 ملین ڈالر کی منظوری دی۔ 8 دسمبر 2024 سے اسرائیلی فوج بفر زون کے اندر موجود ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا لازمی حصہ رہیں گی۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر و توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔