انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کاپ 30: موسمیاتی بحران سے نمٹنے کا تقاضہ غریب ممالک کی مالی اعانت

بیلیم، برازیل میں COP30 پنڈال کے سامنے مظاہرین نے آب و ہوا کی کارروائی کا مطالبہ کرنے والے نشانات اٹھا رکھے ہیں۔
UNFCCC/Diego Herculano برازیل کے شہر بیلیم میں جاری ماحول پر اقوام متحدہ کی کانفرنس ’کاپ 30‘ کے دوران لوگ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے متاثرہ ملکوں کی مالی مدد کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کاپ 30: موسمیاتی بحران سے نمٹنے کا تقاضہ غریب ممالک کی مالی اعانت

رپورٹ: فیلپے ڈی کاروالو (بیلیم)
موسم اور ماحول

برازیل کے شہر بیلیم میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہیں اور ایک بڑا سوال یہ سامنے آ رہا ہے کہ آیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کو وسائل کی فراہمی کا وعدہ پورا ہو گا یا نہیں۔

موسمیاتی بحران سے بری طرح متاثرہ ممالک ہر مذاکراتی میز پر اور ہر سفارتی بیان میں ایک ہی بات دہراتے ہیں کہ مالی وسائل کی فراہمی کے بغیر کسی محفوظ راستے، انصاف اور بقا کا تصور ممکن نہیں۔

کرہ ارض کو قابل رہائش رکھنے اور لاکھوں جانیں بچانے کے لیے بہت سے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں جو مالی وسائل کا تقاضا کرتے ہیں۔ آج 'کاپ 30' میں ہونے والی بات چیت انہی مالی وسائل کو متحرک کرنے پر مرکوز رہی۔ اس حوالے سے تیسرے اعلیٰ سطحی وزارتی مکالمے میں ایسے ممالک کے نمائندوں نے بات چیت کی جو شدید موسمیاتی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے مالی وسائل تک رسائی کو اپنے ممالک کے لیے بقا کا مسئلہ قرار دیا۔

موسمیاتی عمل اور سماجی انصاف

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں کہا کہ حالیہ کاپ کو سالانہ 1.3 ٹریلین ڈالر پر مشتمل موسمیاتی مالیات کے نفاذ کی شروعات ہونا چاہیے تاکہ رقوم تیزی، شفافیت اور انصاف کے ساتھ ان لوگوں تک پہنچیں جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی عمل اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ موسمیاتی عدم تحفظ بھوک اور غربت کو بڑھاتا ہے، غربت ہجرت اور جنگ کو جنم دیتی ہے اور جنگ مزید غربت لاتی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بدنما چکر کا توڑ کرنا عالمی موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

سستی ترین بجلی

پیرس معاہدے کی دسویں سالگرہ کے موقع پر اینالینا بیئربوک نے یاد دلایا کہ 2015 میں اس تاریخی معاہدے کی منظوری پر بہت سے مندوبین جذباتی ہو کر رو دیے تھے۔ اس وقت قابل تجدید توانائی کو غیرحقیقی سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ دنیا میں توانائی کا تیزی سے بڑھتا شعبہ ہے۔

2024 میں ماحول دوست توانائی میں عالمی سرمایہ کاری 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو معدنی ایندھن میں ہونے والی سرمایہ کاری سے 800 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اس طرح شمسی توانائی تاریخ کی سستی ترین بجلی بن چکی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی اس توانائی کی وسیع صلاحیت سے کام نہیں لیا جا رہا کیونکہ سرمایہ وہاں نہیں پہنچ رہا جہاں اس کی شدید ضرورت ہے۔ افریقہ کے 600 ملین سے زیادہ لوگ اب بھی بجلی سے محروم ہیں حالانکہ اس براعظم کی قابل تجدید توانائی کی ممکنہ پیداوار 2040 کی عالمی طلب سے 50 گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی مالی اور تکنیکی ذمہ داریاں پوری کریں اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں۔

موسمیاتی مالیات کی انقلابی طاقت

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے سربراہ سائمن سٹیئل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی مالیات کی انقلابی طاقت کو واضح کیا۔ انہوں نے اس مالیات کو موسمیاتی عمل کا خون رواں قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسی قوت ہے جو منصوبوں کو پیش رفت میں اور عزم کو عمل میں بدل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ کمزور ممالک اب بھی ان رقوم تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جن کا وعدہ برسوں پہلے کیا گیا تھا۔ صاف توانائی، مضبوطی اور منصفانہ تبدیلیوں کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالر خرچ کیے گئے ہیں لیکن مجموعی رقوم اب بھی ناکافی اور ناقابل بھروسہ ہیں اور غیرمنصفانہ طریقے سے تقسیم کی گئی ہیں۔ کاپ میں دنیا اس بات کا ثبوت چاہتی ہے کہ آیا عالمی موسمیاتی تعاون نتائج دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مالیات کا بہاؤ شروع ہوتا ہے تو ہمت بڑھتی ہے جس سے روزگار پیدا ہوتا ہے، اخراجات کم ہو جاتے ہیں، صحت بہتر ہوتی ہے، لوگ محفوظ ہوتے ہیں اور ایک مضبوط و خوشحال دنیا تشکیل پاتی ہے۔