انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: الفاشر میں پھنسے ہزاروں لوگوں تک امداد کی فراہمی ممکن بنانے کی اپیل

الفاشر سے بھاگ کر تویلا پہنچنے والے ایک خاندان کا بچہ۔
© UNICEF/Mohammed Jamal
الفاشر سے بھاگ کر تویلا پہنچنے والے ایک خاندان کا بچہ۔

سوڈان: الفاشر میں پھنسے ہزاروں لوگوں تک امداد کی فراہمی ممکن بنانے کی اپیل

انسانی امداد

سوڈان کے شہر الفاشر میں اب بھی کتنے لوگ پھنسے ہیں؟ یہ ہولناک سوال اُن ہزاروں لاپتہ افراد کے لواحقین کر رہے ہیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ ان کےعزیز زندہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ علاقے میں غذائی قلت کے باعث کئی لوگ مونگ پھلی کے چھلکے اور جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہیں۔

ہائی کمشنر نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات ادارے کے علم میں تھی شہر کا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ہاتھوں سقوط خونریز قتل عام کا سبب بنے گا اس لیے تشدد کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں رکن ممالک نے کہا کہ تمام لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کونسل آپ کو دیکھ رہی ہے اور انصاف ضرور ہوگا۔”

Tweet URL

محصور لوگ مدد کے منتظر

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق صرف گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً ایک لاکھ افراد الفاشر اور آس پاس کے دیہاتوں سے فرار ہو چکے ہیں۔

ریاست پورٹ سوڈان میں ادارے کی سربراہ جیکولین ولمہ نے بتایا ہے کہ شہر سےجان بچا کر بھاگنے والوں نے اپنے ساتھ روا رکھے گئے ظلم و زیادتی کی ناقابل تصور داستانیں سنائی ہیں۔ جہاں بڑی تعداد میں قتل، جنسی تشدد اور لوٹ مار کا ارتکاب کیا گیا۔

انہوں نے کہ کہ والدین اپنے گمشدہ بچوں کو تلاش کر رہے ہیں، جن میں سے کئی تنازع اور محفوظ جگہ تک عدم رسائی کی وجہ سے صدمے کا شکار ہیں۔جو خاندان متحارب فریقین سےتعاون نہیں کر سکتے ان کے نوجوانوں کو گرفتاری یا مسلح گروہ میں جبری بھرتی اور تاوان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جو لوگ الفاشر سے دور محفوظ مقام کی امید رکھتے ہیں انہیں اور بھی خطرناک راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جہاں فوجی چوکیوں سے بچتے ہوئے کچھ افراد نے پندرہ دن تک کم سے کم خوراک اور پانی پر سفر کیا، اور پھر شمالی ریاست کے شہر اَد دبّہ سمیت مختلف مقامات پر پناہ لے سکے۔

دریائے نیل کے کنارے واقع یہ چھوٹا سا شہر اب الفاشر سے آنے والے کم از کم 37 ہزار افراد کی میزبانی کر رہا ہے، اور خیال ہے کہ ہزاروں مزید راستے میں ہیں۔ مسلح گروہ کئی لوگوں کو زبردستی واپس الفاشر بھیج رہے ہیں جہاں حالات بدترین ہیں۔

تباہ کن بحران

سوڈان دنیا کا سب سے بڑا بے گھر آبادی کا بدترین بحران بن چکا ہے، جہاں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد ملک کے اندر اور باہر بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس (یو این ایم ایس)  کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں گھر واپس لوٹنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے اَن پھٹےگولہ بارود خیز مواد کا خطرہ بہت بڑا  ہے۔

ادارے نے بتایا کہ صرف جنوبی کردفان، مغربی کردفان اور بلیو نیل ریاستوں میں 13 ملین مربع کلومیٹر رقبہ بارودی مواد سے آلودہ ہے۔

'یو این ایم اے ایس کے سربراہ صدیق راشد نے کہا ہے کہ دنیا میں اور بھی کئی ممالک جنگی باقیات اور بارودی سرنگوں سے متاثر ہیں لیکن سوڈان بہت مختلف ہے۔ کیونکہ یہاں جنگ زیادہ تر شہری علاقوں میں ہو رہی ہے۔ بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد سے ہونے والی شہری ہلاکتوں میں اضافہ جاری ہےاور ہمیں معلوم ہے کہ رپورٹ ہونے والے کیسز اس نقصان کی حقیقی وسعت کا صرف ایک بہت چھوٹا حصہ ہیں۔