میانمار: فوجی آمریت میں معذوروں کے حقوق کی شدید نفی، انسانی حقوق ماہر
میانمار پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندہ کی نئی رپورٹ کے مطابق ملک میں معذور افراد فوجی حکومت کے ہاتھوں پھانسی، تشدد اور جنسی زیادتی جیسے سنگین مظالم کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ بے شمار دیگر افراد مسلسل جبر اور بے دخلی کے ماحول میں زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
رپورٹ 'ایک مخفی بحران: میانمار میں فوجی بغاوت اور معذور افراد کے حقوق' میں انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈروز نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد معذور افراد پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے موجود امتیازی سلوک اب بقاء کی روزانہ جنگ بن چکا ہے۔
ٹام اینڈروز نے بتایا ہے کہ فوج کی آگ زنی کی ملک گیر مہم کے دوران درجنوں معذور افراد کو ان کے گھروں میں زندہ جلا دینے کی اطلاعات ہیں۔ زندہ بچ جانے والے معذور افراد اکثر بے گھر اور اپنی معاونت کے نیٹ ورک سے دور ہو جاتے ہیں جس کے باعث انہیں زندگی بچانے والی امداد تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
نظام میں موجود امتیازی سلوک
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میانمار میں معذور افراد فوجی تشدد اور گہرے سماجی تعصب کے دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ رائج ثقافتی اور مذہبی عقائد جن میں معذوری کو سابقہ زندگی کے گناہوں کی سزا سمجھا جاتا ہے، معذور افراد کو تنہا اور ان کی عزت نفس کو مجروع کر رہے ہیں۔
ٹام اینڈروز کے مطابق محرومی کی بنیادی وجہ خود معذوری نہیں بلکہ وہ رکاوٹیں ہیں جو میانمار کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچے میں جڑیں رکھتی ہیں۔ امتیاز صرف باہر سے نہیں تھوپا جاتا بلکہ اندرونی طور پر بھی سرایت کر چکا ہے جس کے باعث کئی افراد سماجی زندگی سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔
2021 کی فوجی بغاوت سے قبل میانمار میں معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کی جانب پیش رفت ہو رہی تھی مگر فوجی حکمرانوں نے سول سوسائٹی کے نیٹ ورک تباہ کر دیے ہیں اور متعدد کارکنوں کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا ہے۔
اس کے باوجود ملک بھر میں ایک معقول نیٹ ورک سرگرم ہے جن میں کئی تنظیمیں خود معذور افراد کی قیادت میں کام کر رہی ہیں، جو بنیادی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان میں شامل ارکان حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور دنیا کے خطرناک ترین ماحول میں عزت نفس کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔
انسانیت کا امتحان
ٹام اینڈروز نے خبردار کیا ہے کہ میانمار میں معذور افراد کی حالت نظرانداز ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دنیا کی توجہ دیگر بحرانوں اور تنازعات پر مرکوز ہو جاتی ہے تو میانمار میں معذور افراد کی حالت ایک مخفی بحران بن جاتی ہے جو ایک نظرانداز شدہ انسانی تباہی کے اندر دفن ہے۔ عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
انسانی حقوق کے ماہر نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی حکمرانوں کو تشدد جاری رکھنے کے ذرائع سے محروم کیا جائے اور معذور افراد کی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کی جائے تاکہ جانیں بچائی جا سکیں اور سماجی امتیاز کا خاتمہ ممکن ہو۔
ٹام اینڈروز نے کہا کہ قحط، بے دخلی اور جبر پہلے ہی میانمار میں لاکھوں زندگیوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ معذور افراد کی حمایت صرف انسانی حقوق کا تقاضا نہیں بلکہ ہماری مشترکہ انسانیت کا امتحان ہے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔