انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصر آنکھوں کی بیماری ’کُکرے‘ سے پاک، ڈبلیو ایچ او

ٹریکوما اب بھی دنیا کے 30 ممالک میں صحت عامہ کا مسئلہ ہے جو تقریباً 19 لاکھ افراد میں نابینا پن یا بصری کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
© WHO
ٹریکوما اب بھی دنیا کے 30 ممالک میں صحت عامہ کا مسئلہ ہے جو تقریباً 19 لاکھ افراد میں نابینا پن یا بصری کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

مصر آنکھوں کی بیماری ’کُکرے‘ سے پاک، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ مصر نے آنکھوں کی بیماری ٹروکوما (ککرے) پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے اور اب یہ مرض ملک میں صحت عامہ کا مسئلہ نہیں رہا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف مصر بلکہ 'ڈبلیو ایچ او' کے خطہ مشرقی بحیرہ روم کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اب مصر اس خطے کا ساتواں اور دنیا کا 27واں ملک بن گیا ہے جہاں یہ بیماری وجود نہیں رکھتی۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اس کامیابی پر مصر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقل قیادت، موثر نگرانی اور عوامی شمولیت کے ذریعے اس قدیم بیماری کا خاتمہ ممکن ہے جو صدیوں سے انسانیت کو بری طرح متاثر کرتی چلی آئی ہے۔

ٹریکوما اب بھی دنیا کے 30 ممالک میں صحت عامہ کا مسئلہ ہے جو تقریباً 19 لاکھ افراد میں نابینا پن یا بصری کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ اپریل 2025 تک تقریباً 10 کروڑ 30 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں مقیم تھے جہاں یہ بیماری پائی جاتی ہے اور وہ اس کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ٹروکوما کے خاتمے کا سفر

مصر میں ٹروکوما کی موجودگی 3000 سال سے زیادہ عرصہ سے دستاویزی طور پر ثابت ہے۔ 20ویں صدی کے آغاز میں معروف ماہر چشم سر آرتھر فرگوسن میک ایلن کی قیادت میں مصر میں صحت عامہ کو بہتر بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں جن کے تحت ملک میں امراض چشم کے ہسپتال قائم کیے گئے اور عالمی سطح پر ٹروکوما کے انسداد کی بنیاد رکھی گئی۔ 1980 کی دہائی تک یہ مرض ملک کے بہت سے علاقوں میں بچوں کی نصف آبادی کو متاثر کر رہا تھا۔

2002 سے مصر کی وزارت صحت و آبادی نے عالمی ادارہ صحت اور دیگر قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ٹروکوما کے خاتمے کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کی منظور شدہ حکمت عملی پر عمل کیا جس میں پپوٹوں کی جراحی، جراثیموں کے خاتمے کے لیے اینٹی بایوٹکس کا استعمال، چہرے کی صفائی اور ماحولیاتی بہتری شامل تھیں۔

2015 سے 2025 کے درمیان کیے گئے قومی جائزوں اور نگرانی سے ظاہر ہوا کہ بچوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ میں بتدریج کمی آئی اور بالغوں میں اس کی پیچیدگیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھیں۔

دوسری بڑی طبی کامیابی

یہ مصر میں دوسرے نظرانداز شدہ وبائی مرض کا خاتمہ ہے۔ اس سے پہلے 2018 میں ملک نے لفاتی فیلاریاسس کا خاتمہ کیا تھا۔ ملک میں 'ڈبلیو ایچ او' کی نمائندہ ڈاکٹر نیما عابد نے کہا ہے کہ یہ کامیابی مصر کی متعدی امراض کے خاتمے کی جانب شاندار کارکردگی میں ایک اور اضافہ ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' میں خطہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا ہے کہ سبھی شراکت داروں نے متحد ہو کر یہ ثابت کیا ہے کہ باہمی تعاون اور استقامت کے ساتھ اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہے۔ آج مصر اس بات کی زندہ مثال ہے کہ عزم اور حوصلے سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔