انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 42 افراد ہلاک، آئی ایم او کا اظہار افسوس

لیبیا کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہر سال سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں (فائل فوٹو)۔
SOS Méditerranée/Flavio Gasper
لیبیا کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہر سال سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں (فائل فوٹو)۔

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 42 افراد ہلاک، آئی ایم او کا اظہار افسوس

مہاجرین اور پناہ گزین

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے کے ایک اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں 42 افراد کے ممکنہ طور پر ہلاک ہو جانے کی اطلاع ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی ربڑ کی کشتی 3 نومبر کو صبح تین بجے ساحلی علاقے زوارا سے روانہ ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، چھ گھنٹے کے بعد بلند لہروں کے باعث اس کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی اور تمام مسافر سمندر میں جا گرے۔

Tweet URL

بچ جانے والے مسافروں کے مطابق، کشتی 49 مہاجرین اور پناہ گزینوں کو لے کر یورپ کی جانب روانہ ہوئی تھی جن میں 47 مرد اور دو خواتین شامل تھیں۔ چھ روز بعد ان میں سے صرف سات مردوں کی جان ہی بچائی جا سکی۔ ان میں چار کا تعلق سوڈان، دو کا نائجیریا اور ایک کا تعلق کیمرون سے ہے۔

لاپتہ افراد میں 29 کا تعلق سوڈان سے بتایا گیا ہے جبکہ آٹھ صومالیہ، تین کیمرون اور دو نائجیریا سے تعلق رکھتے تھے۔

'آئی او ایم' کی ٹیم نے متعلقہ حکام کے تعاون سے بچ جانے والے افراد کو ساحل پر پہنچنے کے فوری بعد ہنگامی طبی امداد، پانی اور خوراک فراہم کی۔

مہاجرت کا خطرناک راستہ

یہ حادثہ لیبیا کے علاقے سورمان اور اٹلی کے قریب لیمپیڈوسا میں حالیہ مہلک واقعات سے چند ہفتوں بعد پیش آیا ہے جو اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ وسطی بحیرہ روم میں مہاجرت کے خطرناک راستے پر سفر کرنے والے مہاجرین اور پناہ گزین کس قدر شدید خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔

لاپتہ پناہ گزینوں سے متعلق 'آئی او ایم' کے منصوبے کی جانب سے جاری کیے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال ہی وسطی بحیرہ روم میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

حالیہ حادثے کے بعد یہ تعداد مزید بڑھ گئی ہے جو اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ مہاجرت کے مسئلے پر علاقائی تعاون کو مضبوط بنایا جائے، محفوظ اور باقاعدہ ہجرت کے راستوں کو وسعت دی جائے اور حادثات کا شکار ہونے والوں کی تلاش اور جان بچانے کی کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔