سوڈان بحران: نقل مکانی پر مجبور افراد کے لیے امدادی سامان روانہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کی ریاست شمالی دارفور کے شہر الفاشر میں اجتماعی قتل عام اور نسلی وجنسی تشدد نے نقل مکانی میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے جبکہ شدید عدم تحفظ کے نتیجے میں انسانی بحران نے بدترین صورت اختیار کر لی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے ملک کے پانچ روزہ دورے کے آغاز پر کہا ہے کہ الفاشر کا بحران 18 ماہ کے محاصرے کا براہ راست نتیجہ ہے جس نے خاندانوں کو خوراک، پانی اور طبی سہولیات سے محروم کر دیا ہے۔ ادارے کی ٹیمیں لوگوں کو ضروری امداد فراہم کر رہی ہیں مگر غیر محفوظ حالات اور ختم ہوتے وسائل کی وجہ سے تمام ضرورت مند افراد کی مدد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر محفوظ رسائی اور فوری مالی امداد فراہم نہ کی گئی تو امدادی کارروائیاں روکنا پڑ سکتی ہیں۔
دو ہفتوں میں الفاشر اور اس کے گردونواح میں شدید گولہ باری اور زمینی حملوں کے باعث تقریباً 90 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ بے شمار خاندان غیر محفوظ راستوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں کھانے، پانی اور طبی امداد تک رسائی نہیں۔ ہزاروں شہری اب بھی علاقے میں محصور ہیں جنہیں قحط جیسے حالات کا سامنا ہے جبکہ ہسپتال، بازار اور پانی کا نظام تباہ ہو چکے ہیں۔
نقل مکانی، لوٹ مار اور تشدد
سوڈان کے دیگر علاقے بھی تشدد سے محفوظ نہیں۔ شمالی کردفان میں 26 اکتوبر سے 9 نومبر کے دوران اندازاً 38 ہزار 990 افراد جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ ان میں بہت سے لوگ پیدل یا گدھا گاڑیوں پر طویل فاصلے طے کر رہے ہیں، کھلے آسمان تلے بغیر کسی پناہ کے سو رہے ہیں، کئی روز فاقوں پر مجبور رہے ہیں اور انہیں ہر وقت حملوں کے خوف کا سامنا ہے۔
شہریوں کے تحفظ سے متعلق پریشان کن اطلاعات میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں غیر قانونی گرفتاریاں، لوٹ مار، جسمانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ کشیدگی بڑھنے سے پہلے ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد الفاشر سے 70 کلومیٹر دور تاویلہ میں پناہ گزین تھے اور اب مزید لوگ بھی پناہ کے لیے اس علاقے میں آ رہے ہیں جن میں زخمی بھی شامل ہیں۔
مدد کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود امدادی وسائل کی شدید قلت ہے۔ گودام خالی ہیں، امدادی قافلے غیر محفوظ حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں رسائی میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ 'آئی او ایم' مالی وسائل میں اضافے اور فوری، مستقل اور محفوظ انداز میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپیل کر رہا ہے۔
'آئی او ایم' کا امدادی اقدام
20 اکتوبر کو پورٹ سوڈان سے روانہ ہونے والا 'آئی او ایم' کا ایک قافلہ 7,500 افراد کے لیے پناہ کا سامان اور غیر غذائی اشیا لے کر تویلا کی جانب گامزن ہے۔ یہ اشیا افریقن ریلیف کمیٹی اور 'سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل' تقسیم کریں گے۔ 'آئی او ایم' کے مقامی شراکت دار اپنے ہنگامی امدادی فنڈ کے ذریعے عارضی رہائش کا سامان، تحفظ میں مدد اور طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی وجنوبی دارفور میں 60,000 افراد کے لیے پانی، صفائی اور حفظان صحت تک رسائی بہتر بنائی جا رہی ہے تاکہ ہیضہ جیسی وباؤں کو روکا جا سکے۔
'آئی او ایم' نے عطیہ دہندگان، شراکت داروں اور بین الاقوامی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے نقصان کو روکا جا سکے اور کمزور افراد محفوظ طریقے سے امداد تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ امداد پہنچانے، لوگوں کی عزت نفس کو یقینی بنانے اور بڑھتے ہوئے بحران میں پھنسے شہریوں کے تحفظ کے لیے مربوط قومی اور بین الاقوامی کوششیں نہایت ضروری ہیں۔