غزہ جنگ بندی: یو این ادارے ہر ضرورتمند تک پہنچنے کی کوشش میں مصروف
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مدد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
جنگ بندی کو ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد ٹام فلیچر نے بتایا ہے کہ اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک فراہم کی گئی ہے، غذائیت کے مراکز کا دوبارہ آغاز ہوا ہے، حفاظتی ٹیکوں کی مہم بحال کی گئی ہے، پانی کے پائپوں کو مرمت کیا جا رہا ہے، ہسپتال دوبارہ فعال بنائے جا رہے ہیں اور لوگوں میں موسم سرما کے لیے گرم کپڑوں کی تقسیم اور انہیں نفسیاتی و سماجی امداد کی فراہمی جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کام میں اب بھی کئی رکاوٹیں باقی ہیں جن میں امدادی کاموں میں ضابطے کی تاخیر، شراکت دار اداروں کو مزید بااختیار بنانا، امدادی سامان لانے کے لیے مزید سرحدی گزرگاہوں تک رسائی اور عدم تحفظ شامل ہیں۔ اگر یہ پابندیاں نرم کر دی جائیں تو کہیں زیادہ زندگیوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ غزہ میں نازک صورتحال اور زمینی رکاوٹوں کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جو جنگ بندی سے پہلے ناقابل رسائی تھے۔
اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں
7 نومبر سے پیر تک، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منصوبہ جاتی خدمات (یو این او پی ایس) نے شراکت دار اداروں میں 6,19,000 لیٹر سے زیادہ ڈیزل تقسیم کیا ہے جس میں سے تین چوتھائی جنوبی غزہ اور باقی شمالی حصے میں فراہم کیا گیا تاکہ پانی، صفائی اور حفظان صحت، طبی خدمات، نقل و حمل، ملبہ صاف کرنے، تعلیم، غذائیت اور تحفظ جیسی اہم سرگرمیوں کو مدد دی جا سکے۔
یکم نومبر سے اتوار تک، اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں نے تقریباً 2,55,000 افراد کو خوراک کی عمومی امداد فراہم کی جس میں ہر خاندان کو دو خوراکوں پر مشتمل راشن دیے گئے۔
جنگ بندی کے ایک ماہ بعد، غذائی تحفظ پر اقوام متحدہ کے شراکت دار روزانہ تقریباً 1,60,000 روٹیاں تقسیم کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی معاونت سے 19 تنوروں میں تیار کی جاتی ہیں جن میں سے نو شمالی غزہ میں واقع ہیں۔
نائب امدادی رابطہ کار کا دورہ اردن
'اوچا' کی نائب ہنگامی رابطہ کار جوائس مسویا نے اردن کا دورہ مکمل کر لیا ہے جہاں انہوں نے اعلیٰ سرکاری حکام اور امدادی شراکت داروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ انسانی امداد کے شعبے میں اردن کی قیادت بہت سے ممالک کے لیے ایک مثال ہے چاہے وہ امداد تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا ہو یا مہاجرین کی میزبانی کرنا۔
انہوں نے سوموار کو عمان کے قریب واقع البقعہ مہاجر کیمپ کا دورہ کیا اور فلسطینی مہاجرین کی دہائیوں سے میزبانی کرنے پر اردن کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ بقعہ میں انہوں نے مہاجر خاندانوں سے گفتگو کی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے زیرانتظام ایک طبی مرکز اور لڑکیوں کے سکول کا دورہ کیا۔
انہوں نے عمان میں مختلف ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقات کی جو اس ماہ کے آخر میں قاہرہ میں ہونے والی غزہ کانفرنس کی تیاریوں کا حصہ تھیں جس کی میزبانی مصر کرے گا۔
جوائس مسویا نے زور دیا کہ انسانی امداد کی فراہمی کو بحالی اور تعمیرنو کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ دیرپا فوائد حاصل ہو سکیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور صف اول میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کو دنیا کی مکمل حمایت درکار ہے۔