پائیدار ایئرکنڈیشنگ سے کھربوں ڈالر بچانا ممکن، یونیپ
اقوام متحدہ کے موسمیاتی پروگرام (یونیپ ) کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کو فوری طور پر پائیدار ٹھنڈک کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ زندگیوں کو تحفظ ملے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے اور توانائی کی لاگت میں کھربوں ڈالر کی بچت ممکن ہو۔
دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں کے سبب 2050 تک ٹھنڈک کی مانگ تین گنا بڑھ سکتی ہے جس سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھے گا، کاربن کے اخراج میں اضافہ ہو گا اور اربوں افراد خطرناک حدود کو چھوتے درجہ حرارت کے مقابل غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ یونیپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھنڈک کو موسمیاتی لحاظ سے موزوں، قابل استطاعت اور سب کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔
برازیل کے شہر بیلیم میں جاری عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) کے موقع پر آج جاری کردہ 'گلوبل کولنگ واچ 2025 رپورٹ' سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ رجحانات کے تحت ٹھنڈک پیدا کرنے کے اقدامات سے کاربن کا اخراج وسط صدی تک تقریباً دوگنا بڑھ سکتا ہے جو 7.2 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہو گا۔ یہ اضافہ ایسے وقت بھی ممکن ہے جب توانائی کو ماحول دوست بنانے کی جانب تیزرفتار پیش رفت جاری ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آمدنی، شہری آبادی اور شدید گرمی ایئر کنڈیشننگ کی مانگ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
شہری ٹھنڈک اور محفوظ مستقبل
یونیپ کی قیادت میں 'اتحاد برائے ٹھنڈک' نے ایک ایسا پائیدار راستہ پیش کیا ہے جو 2050 تک اخراج میں 64 فیصد کمی لا سکتا ہے، 3 ارب افراد کو شدید گرمی سے بچا سکتا ہے اور توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی لاگت میں 43 کھرب ڈالر کی بچت ممکن بنا سکتا ہے۔
اس منصوبے میں موثر ڈیزائن، کم توانائی والے اور ہائبرڈ نظام اور 'کیگالی ترمیم' کے تحت ہائیڈرو فلورو کاربن کے تیز رفتار خاتمے کو یکجا کیا گیا ہے۔ ٹھنڈک پیدا کرنے والے نظام سے کاربن کے ممکنہ اخراج میں دو تہائی کمی ایسے طریقہ ہائے کار سے ممکن ہے جن میں کم توانائی استعمال ہوتی ہے۔ ان میں عمارتوں کا بہتر ڈیزائن، شہروں کے سرسبز رقبے میں اضافہ اور ٹھنڈک پیدا کرنے کی موثر ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
'یونیپ' کی سربراہ انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ ٹھنڈک تک رسائی کو پانی، توانائی اور صفائی ستھرائی کی طرح بنیادی ڈھانچہ سمجھا جانا چاہیے۔ صرف ایئر کنڈیشننگ کے ذریعے گرمی کے بحران سے نہیں نکلا جا سکتا۔ قدرتی اور توانائی سے متعلق موثر طریقہ کار لوگوں، خوراک کے نظام اور معیشتوں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں اور موسمیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ منصوبہ عالمی سطح پر نافذ کیا جائے تو توانائی کی لاگت میں 17 کھرب ڈالر کی بچت اور بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری سے مزید 26 کھرب ڈالر کی بچت ممکن ہے۔
حدت کے خلاف عالمگیر تحریک
'حدت کو شکست دینے کا اقدام'، برازیل کی کاپ 30 صدارت اور یونیپ کی مشترکہ قیادت میں 'عالمی وعدہ ٹھنڈک' کو مقامی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش ہے۔ ریو ڈی جنیرو، جکارتہ اور نیروبی سمیت 185 سے زیادہ شہر اس اقدام کا حصہ بن چکے ہیں جن کے ساتھ 83 شراکت دار اور 72 قومی دستخط کنندگان بھی شامل ہیں۔ اس وعدے کے تحت 2050 تک ٹھنڈک سے متعلق اخراج میں 68 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کاپ 30 کے صدر آندرے کوریا دو لاگو نے کہا ہے کہ یہ تعاون پر مبنی کوشش ہے جو لوگوں کو یکجا کر کے دور حاضر کے اہم ترین مسائل سے نمٹنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
'پائیدار ٹھنڈک' کی ضرورت
اب تک 134 ممالک نے ٹھنڈک کو اپنی قومی موسمیاتی حکمت عملی میں شامل کیا ہے مگر صرف 54 ممالک کے پاس جامع پالیسیاں ہیں جو عمارتوں کے ڈیزائن، موثر توانائی اور ٹھنڈک پیدا کرنے کے نظام کی ماحول دوست توانائی پر منتقلی کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس حوالے سے افریقہ اور ایشیائی الکاہل میں خلا سب سے زیادہ ہے جہاں ٹھنڈک کی مانگ میں تیزتر اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرم ہوتی دنیا میں پائیدار ٹھنڈک ایک موثر حل ہے جو زندگیوں کے تحفظ، معیشت کی مضبوطی اور ماحول کی بقا میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔