کاپ 30: مصنوعی ذہانت زراعت اور ماحول کے لیے دو دھاری تلوار
ٹیکنالوجی کسانوں کو پانی اور مٹی کے حالات کو بہتر طور پر سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر معلومات ذخیرہ کرنےکے مراکز سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
برازیل کے شہر بیلیم میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) میں قابل اعتماد اور سستی ماحول دوست ٹیکنالوجی تک رسائی میں حائل مشکلات کو دور کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس سلسلے میں طویل عرصہ سے زیرالتوا 'ٹیکنالوجی نفاذ پروگرام' کو آگے بڑھانے پر بھی گفت و شنید ہو رہی ہے جسے ایسے جدید ذرائع سے کام لینے کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے جو عالمی حدت کے تناظر میں آفات سے دوچار دنیا میں زندگیوں کو تحفظ دے سکتے ہیں۔
تجارتی پابندیاں بشمول انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اور مالی مشکلات اس پروگرام پر پیش رفت میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں جس سے ترقی پذیر ممالک کو اہم ٹیکنالوجی تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
'کاپ 30' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا ٹونی نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے بعد بتایا کہ اس مسئلے پر ہونے والے مباحثوں میں یہ بات زیرغور آئی کہ تکنیکی جدتیں کس طرح موسمیاتی مسائل کے حل کو تیز تر بنا سکتی ہیں، چاہے وہ سیلاب سے خبردار کرنے والے نظام ہوں، میتھین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ ہوں یا توانائی کی کارکردگی میں بہتری لانے والی نئی دریافتیں۔
گرمی کا پائیدار توڑ
یہ موضوع منگل کے روز ایک بار پھر اس وقت سامنے آیا جب ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بنائے گئے 'کاپ 30' کی صدارت (برازیل)، شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی پروگرام (یونیپ)کے اتحاد نے 'حدت کو شکست دینے کے اقدامات پر عملدرآمد' کے اقدام کا مشترکہ آغاز کیا۔
یہ منصوبہ گرمی کے پائیدار توڑ کے فروغ کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ لوگ شدید گرمی کی لہروں کے دوران اس انداز میں ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ تک رسائی حاصل کر سکیں کہ اس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ نہ ہو۔ پائیدار ٹھنڈک پیدا کرنے کے انتظام میں توانائی کی کارکردگی، فطری ڈیزائن، قدرتی حل اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جاتا ہے تاکہ توانائی کے استعمال اور اخراج دونوں میں کمی لائی جا سکے۔
موسمیاتی استحکام بذریعہ ٹیکنالوجی
اگرچہ مصنوعی ذہانت کو 'کاپ 30'کے باضابطہ مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا لیکن یہ اس کے لائحہ عمل کا حصہ ضرور ہے۔ برازیل کی حکومت ایسے منصوبوں کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت موسمیاتی استحکام پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے جبکہ یہی کوشش دیگر رکن ممالک میں بھی کی جا رہی ہے۔
عوامی جمہوریہ لاؤ سے تعلق رکھنے والی محقق الیسا لوانگراتھ کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آبپاشی نظام اس کی نمایاں مثال ہے جسے ساوانناکھیت صوبے میں نافذ کیا گیا۔ یہ علاقہ زرعی لحاظ سے نہایت اہم ہے جہاں پانی کی شدید قلت اور موسمیاتی اثرات کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ الیسا کو اس کام پر 2025 کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) کی جانب سے 'مصنوعی ذہانت برائے موسمیاتی اقدامات' کا ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔
زراعت اور مصنوعی ذہانت
الیسا لوانگراتھ نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تیار کردہ نظام مٹی کی نمی کے سینسر، زیرزمین پانی کی نگرانی کے آلات اور موسمیاتی معلومات کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والی تجزیاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔
یہ نظام ان تمام معلومات کا تجزیہ کر کے زمین کی حالت، پانی کی دستیابی اور سیلاب یا شدید گرمی جیسے خطرات کی پیش گوئی کرتا ہے۔ کسانوں کو ایک موبائل ایپ کے ذریعے حقیقی وقت میں تازہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں جس سے وہ کاشت اور آبپاشی کے اوقات کی بہتر منصوبہ بندی سکتے ہیں۔
انہیں امید ہے کہ کاپ میں ایسے شراکت دار سامنے آئیں گے جن کے ذریعے یہ جدت دیگر ممالک اور ان لوگوں تک بھی پہنچائی جا سکے گی جو موسمیاتی دھچکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے منصوبے کے تحت تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت کے تمام ماڈل اور ڈیٹا ٹول اوپن سورس لائسنس کے تحت عام کیے جائیں گے تاکہ انہیں مفت استعمال کیا جا سکے اور بہتر بنایا جا سکے۔
آبی وسائل پر دباؤ
مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھنے کے ساتھ ماہرین اس کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
برازیل میں صارفین کے تحفظ کے ادارے (آئی ڈی ای سی) میں ٹیلی مواصلات اور ڈیجیٹل حقوق کے رابطہ کار لوآکروز نے یو این نیوز کو بتایا کہ روزمرہ کی ڈیجیٹل سرگرمیاں جیسا کہ موبائل فون کا استعمال اور آن لائن رابطے دراصل بڑے پیمانے پر معلومات ذخیرہ کرنے کے مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ مراکز توانائی اور ٹھنڈک کے لیے پانی کی بے پناہ مقدار استعمال کرتے ہیں اور انہیں برقی آلات کے لیے معدنیات کے بڑے پیمانے پر استخراج کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے بہت سےمراکز قائم کرنے کے لیے ماحولیاتی مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب ہوتا ہے جہاں ماحولیاتی ضابطے کمزور ہوں اور محصولات میں زیادہ سے زیادہ چھوٹ ملے۔
لوآکروز کا کہنا ہے کہ دیگر کئی ممالک کی طرح برازیل بھی ایسے مراکز کو اپنی جانب راغب کرنے کی دوڑ میں شامل ہے جس سے پانی کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیدرلینڈز نے ایسے نئے مراکز کے قیام پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ چلی اور یوراگوئے نے ایسے مراکز بند کیے ہیں جو مقامی سطح پر خشک سالی میں اضافے کا باعث بنے۔