پناہ کے متلاشی روہنگیاؤں کی انڈیمان ساحلوں پر ہلاکت قابل افسوس، یو این
اقوامِ متحدہ نے ملائشیا اور تھائی لینڈ کے ساحلوں کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کشتی ڈوبنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں 21 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 13 افراد کی جان بچا لی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر تقریباً 70 افراد سوار تھے جن میں 36 کی تلاش جاری ہے۔ یہ کشتی ان لوگوں کو میانمار سے ملائشیا اور تھائی لینڈ کی جانب لے جا رہی تھی۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ اسی سمندر میں ایک اور کشتی کو بھی خطرہ لاحق ہے جس پر 230 افراد سوار ہیں۔
ڈوبنے والی کشتی پر دو نوعمر لڑکیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ دونوں اداروں نے مقامی ساحلی آبادیوں کی جانب سے ان لوگوں کو مدد فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔
بدامنی، نقل مکانی اور ہلاکتیں
رواں سال 5,300 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش اور میانمار سے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے نکلنے کی کوشش کی ہے جن میں چھ سو سے زیادہ لاپتہ یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں محدود امداد اور مواقع، میانمار میں بڑھتا ہوا تنازع اور بگڑتی انسانی صورتحال اور امدادی وسائل میں کمی ان لوگوں کو خطرناک سمندری سفر پر مجبور کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے سفر کرنے والوں میں دو تہائی سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
دونوں اداروں نے کہا ہے کہ سمندر میں زندگیاں بچانا انسانی فریضہ اور بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت ایک لازمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تلاش اور بچاؤ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، پناہ کے محفوظ راستے فراہم کرنے اور اس طرح کے سانحوں سے بچنے کے لیے مزید وسائل اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششیں کریں۔
سیاسی حل کی ضرورت
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میانمار میں جاری بحران کے سیاسی حل اور لڑائی کے خاتمے کے لیے مزید علاقائی اور بین الاقوامی حمایت ضروری ہے کیونکہ جب تک جبری ہجرت کی وجوہات اور میانمار میں بدامنی کے عوامل دور نہیں ہوتے اس وقت تک پناہ کے خواہاں لوگ سلامتی کی تلاش میں ایسے خطرناک سفر جاری رکھیں گے۔
'یو این ایچ سی آر' اور 'آئی او ایم' حکومتوں کے ساتھ مل کر ان راستوں پر سفر کرنے والے پناہ گزینوں، مہاجرین اور بے وطن افراد کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں جن میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے راستے بھی شامل ہیں۔