سوڈان: جنسی زیادتی بطور جنگی ہتھیار کے استعمال کا خدشہ
'یو این ویمن' نے کہا ہے کہ سوڈان میں جنسی زیادتی کو ممکنہ طور پر جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں عورت ہونے کا مطلب بھوک، تشدد اور موت ہے۔
جنوبی اور مشرقی افریقہ کے لیے ادارے کی علاقائی ڈائریکٹر اینا موتاواتی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا قبضہ ہونے کے بعد خواتین نے بمباری، بھوک، جبری نقل مکانی، جنسی زیادتی اور بمباری جیسے حالات برداشت کیے ہیں۔ حاملہ خواتین کو سڑکوں پر بچوں کو جنم دینا پڑا کیونکہ حملوں سے بچ جانے والے آخری زچگی ہسپتال بھی لوٹ لیے گئے یا تباہ کر دیے گئے۔
2008 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرار دیا تھا کہ جنگی حالات میں جنسی زیادتی یا دیگر اقسام کا جنسی تشدد جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کے مترادف ہے۔
اینا موتاواتی نے بتایا ہے کہ الفاشر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ ہزاروں خواتین اور لڑکیاں شمالی دارفور کے علاقے تاویلہ ، کورما اور مالیط کی جانب نقل مکانی کر رہی ہیں جہاں انسانی امداد کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
دانستہ اور منظم جنسی تشدد
اقوام کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، سوموار تک تقریباً 89 ہزار افراد علاقے سے فرار ہو چکے تھے جن میں سے بعض سوڈان اور چاڈ کی سرحد کے قریب پناہ لے رہے ہیں۔ خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں اس ہولناک سفر میں پانی لینے، جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے یا خوراک حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونے تک ہر جگہ جنسی تشدد کے شدید خطرے کا سامنا رہتا ہے۔
'یو این ویمن' کا کہنا ہے کہ اس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد موجود ہیں کہ جنسی زیادتی کو دانستہ اور منظم انداز میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
خوراک، دوا یا وقار؟
اینا موتاواتی نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں خواتین کے جسم جرائم کا نشانہ بن گئے ہیں اور جنگ زدہ علاقوں میں ان کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہی جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں یا بنیادی نفسیاتی مدد حاصل کر سکیں۔ شمالی دارفور میں سینیٹری پیڈز کے ایک پیکٹ کی قیمت تقریباً 27 ڈالر ہے جبکہ چھ رکنی خاندان کو مہیا کی جانے والی ماہانہ انسانی امداد کا حجم 150 ڈالر سے بھی کم ہے۔
لوگوں کو خوراک، دوا اور عزت میں سے کوئی ایک انتخاب کرنا پڑتا ہے جبکہ خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی ضروریات ہمیشہ فہرست کے آخر میں آتی ہیں جو سب سے کم کھاتی ہیں اور انہیں سب سے آخر میں کھانا ملتا ہے جبکہ بعض فاقوں پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں نوعمر لڑکیوں کی طویل مدتی صحت اور غذائیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دارفور اور کردفان جیسے محصور اور دور دراز علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کو بقا کی خاطر خود خوراک تلاش کرنا پڑتی ہے۔ یہ جنگلوں سے کھانے کے لیے پتے اور بیریاں جمع کرتی ہیں جہاں انہیں جنسی و دیگر تشدد کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
شدید غذائی قلت
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کی جانب سے نومبر میں بتایا گیا تھا کہ الفاشر اور جنوبی کردفان کے دارالحکومت کادغلی میں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اینا موتواتی نے کہا کہ ماؤں میں پھیلی بھوک کے باعث ان کی دودھ پلانے کی صلاحیت میں کمی کے نتیجے میں طبی کارکن بچوں میں شدید غذائی قلت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے تشدد کے خاتمے، انسانی امداد تک وسیع رسائی اور خواتین کی سربراہی میں چلنے والے اجتماعی باورچی خانوں اور دیگر امدادی مراکز کی مزید معاونت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال ہماری مشترکہ انسانیت کا پیمانہ ہے۔