انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: ان پھٹے گولہ بارود سے دو ننھے بھائیوں کے جسم چھلنی ہونے کی کہانی

دھماکے کے نتیجے میں زین کا ننھا جسم چھروں کے زخموں سے بھرا ہوا ہے۔
UN News
دھماکے کے نتیجے میں زین کا ننھا جسم چھروں کے زخموں سے بھرا ہوا ہے۔

غزہ: ان پھٹے گولہ بارود سے دو ننھے بھائیوں کے جسم چھلنی ہونے کی کہانی

امن اور سلامتی

'میں اور میرا بھائی خود کو ہوا میں اڑتا محسوس کر رہے تھے اور پھر ملبے پر جا گرے جس کے بعد ہمیں ہوش نہ رہا'، یہ الفاظ غزہ کے نوعمر لڑکے زین الانقر کے ہیں جو اپنے بھائی جود کے ساتھ غزہ شہر میں ملبے سے لکڑیاں تلاش کر رہے تھے کہ ایک بم کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئے۔

زین نے یو این نیوز کو بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جنوبی غزہ سے واپس غزہ شہر آئے تھے۔ ان کے اہلخانہ کو کھانا بنانے کے لیے ایندھن کی ضرورت پڑی تو وہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر جا کر لکڑیاں، کاغذ اور پلاسٹک جمع کرنے لگے۔ اسی دوران انہیں ملبے تلے ایک ڈبہ دکھائی دیا جسے انہوں نے اٹھایا تو وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں زین کا ننھا جسم شریپنل (چھروں اوردھاتی ٹکڑوں) کے زخموں سے بھرا ہوا ہے۔ ان کی بائیں ٹانگ پر پٹیاں بندھی ہیں اور وہ بیساکھیوں کے ذریعے چلتے ہیں۔ ان دنوں وہ اپنے خاندان کے ساتھ غزہ شہر کے الرمل محلے میں سڑک کنارے ایک عارضی خیمے میں مقیم ہیں۔

ان کا چھوٹا بھائی جود کیمرے کے سامنے اپنے ہاتھ دکھاتے ہوئے بتاتا ہے کہ ان پر بھی شریپنل کے نشانات ہیں جو اس روز دھماکے کے نتیجے میں لگے۔ اس کے دبلے پتلے سینے کے بیچ میں ایک زخم ہے جس پر ٹانکے لگے ہیں۔ جود نے بتایا کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر اور اس کے نیچے بہت سا اَن پھٹا گولہ بارود موجود ہے۔

جود کیمرے کے سامنے اپنے ہاتھ دکھاتے ہوئے بتاتا ہے کہ ان پر بھی چھروں کے نشانات ہیں جو اس روز دھماکے کے نتیجے میں لگے۔
UN News

ملبے تلے موت

اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس (یو این ایم اے ایس) کے سربراہ، لوک ارونگ نے خبردار کیا ہے کہ اَن پھٹے گولہ بارود کی موجودگی آنے والے دنوں، ہفتوں، مہینوں اور برسوں میں بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں کا ملبہ ہٹا رہے ہیں، بچے تباہ شدہ علاقوں میں کھیلتے ہیں اور امدادی کارکن ان جگہوں پر پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے لڑائی کی وجہ سے جانا ممکن نہیں تھا۔

یہی خطرہ زین اور جود کے خاندان کو بھی پریشان کر رہا ہے۔ ان کی والدہ نے یو این نیوز کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ان کے بچوں کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

وہ اپنے بچوں کے لیے بہت فکر مند ہیں کیونکہ جا بجا جنگی ملبہ اور گولہ بارود بکھرا ہوا ہے اور لوگ نہیں جانتے کہ ملبے کے اندر کیا چھپا ہے۔

اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس کے مطابق اَن پھٹے گولہ بارود کی موجودگی آنے والے دنوں میں بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
UN News

خطرے سے آگاہی

'یو این ایم اے ایس' نے اکتوبر 2023 سے اب تک قابل رسائی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کے 550 سے زیادہ ٹکڑے شناخت کیے ہیں۔ تاہم، غزہ میں ایسے مواد کی اصل تعداد کے بارے میں کوئی واضح معلومات موجود نہیں ہیں۔

لوک ارونگ کا کہنا ہے کہ غزہ سے ان پھٹے دھماکہ خیز مواد کو راتوں رات صاف کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک طویل، مشکل اور خطرناک عمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال لوگوں کو خطرات سے آگاہ کرنا اور جہاں ممکن ہو وہاں سے دھماکہ خیز مواد کو ہٹا کر تلف کرنا سب سے اہم کام ہے تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔