اپنے انسانی حقوق ریکارڈ کے جائزے میں امریکہ کی عدم شرکت پر افسوس
اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے امریکہ کی جانب سے اپنے ہاں حقوق کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ جائزہ اب 2026 میں دوبارہ ہو گا۔
کونسل نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کی قرارداد 60/251 اور انسانی حقوق کونسل کی قرارداد 5/1 کے تحت جائزے کے عمل میں تعاون کو بحال کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عمل رواں سال بھی مکمل کیا جا سکتا ہے۔
اس اجلاس میں دنیا بھر کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا مخصوص مدتی جائزہ لیا جاتا ہے اور امریکہ کو 3 سے 14 نومبر کے درمیان اس کی نشست میں شرکت کرنا تھی۔
کونسل نے کہا ہے کہ ایسے تمام مناسب اقدامات کیے جائیں کہ امریکہ کو اس طریقہ کار میں شمولیت کی ترغیب ملے اور آئندہ باقاعدہ اجلاسوں میں اس حوالے سے ہونے اولین پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔
مساوات، احتساب اور مکالمہ
حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ادارے (یو پی آر ورکنگ گروپ) کے 50ویں اجلاس کے دوران دیگر رکن ممالک کا جائزہ طے شدہ اوقات میں جاری ہے۔
اب تک بیلاروس، لائبیریا، ملاوی، منگولیا، پاناما، مالدیپ، انڈورا، بلغاریہ اور ہونڈوراس کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ مارشل آئی لینڈز، کروشیا، جمیکا اور لیبیا کا جائزہ اجلاس کے اگلے مرحلے میں لیا جائے گا۔
کونسل اس عمل کے ذریعے تمام رکن ممالک کے درمیان مساوی سلوک، احتساب اور مکالمے کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے اور تمام ممالک کی شمولیت اس طریقہ کار کی ساکھ اور افادیت کے لیے بہت اہم ہے۔
جائزے کا طریقہ کار
اس جائزے کو یونیورسل پیریاڈک ریویو (یو پی آر) کہا جاتا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کی انسانی حقوق سے متعلق کارکردگی مساوی بنیادوں پر جانچی جاتی ہے۔ ہر جائزہ کسی ملک کو انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری سے متعلق اپنی پیش رفت سے آگاہ کرنے، اس راہ میں حائل مسائل کو سامنے لانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس عمل میں تین بنیادی دستاویزات پر انحصار کیا جاتا ہے جن میں متعلقہ ریاست کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ، اقوام متحدہ کی حاصل کردہ معلومات کا مجموعہ اور متعلقہ فریقہ کی معلومات کا خلاصہ شامل ہیں جو سول سوسائٹی کی تنظیموں، قومی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اور علاقائی اداروں سے حاصل کی جاتی ہیں۔