سوڈان: دوسرے ممالک متحارب فریقین کو اسلحہ دینا بند کریں، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے سوڈان کے علاقے دارفور اور کردفان میں تشدد کے فوری خاتمے کی اپیل کو دہراتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ متحارب فریقین کو اسلحہ فراہم نہ کریں۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ شمالی دارفور کے مرکزی شہر الفاشر میں اب بھی ہزاروں لوگ پھنسے ہیں جنہیں وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خدشہ ہے کہ شہر کے اندر ماورائے عدالت قتل، جنسی زیادتی اور نسلی بنیاد پر تشدد سمیت بدترین مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو لوگ کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو جائیں ان کے لیے بھی تشدد ختم نہیں ہوتا اور وہ راستے میں ایسے تمام مظالم کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے ریاست کردفان میں رونما ہونے والے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہاں عام شہریوں کی ہلاکتوں، تباہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور لڑائی مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
الفاشر میں تباہ کن تشدد کے پیش نظر فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے تمام ممالک نے فوری اور فیصلہ کن اقدام نہ کیا تو مزید قتل عام اور مظالم دیکھنے کو ملیں گے۔ جنگی فریقین کو ایسے عسکری وسائل کی فراہمی بند ہونی چاہیے جن کے ذریعے وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ہولناک جنسی تشدد
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات کو تشویشناک قرار دیا ہے جن میں شہریوں کا قتل اور خواتین کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات شامل ہیں۔
ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ الفاشر میں ہونے والے جرائم کی وسعت اور شدت ناقابل تصور ہے جن میں منظم، وسیع اور سفاکانہ نوعیت کا جنسی تشدد بھی شامل ہے۔ شہر پر 'آر ایس ایف' کا قبضہ ہونے کے بعد خواتین کو ان کے اہل خانہ کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں غیرانسانی حالات میں رکھنے جیسی لرزہ خیز اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق، 'آر ایس ایف' کے جنگجوؤں نے الفاشر یونیورسٹی کے قریب بے گھر افراد کی پناہ گاہ میں بندوق کے زور پر خواتین اور لڑکیوں کو الگ کیا اور ان میں سے کم از کم 25 کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ فرار کی کوشش کرنے والی خواتین کو مزید جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تشدد سے بچ جانے والی بہت سی خواتین اب بھی لاپتہ ہیں اور انہیں طبی یا نفسیاتی مدد تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
نسلی بنیاد پر قتل عام
ماہرین نے مصدقہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'آر ایس ایف' نے الفاشر میں شہریوں کو نسلی بنیاد پر قتل کیا جو کہ جنگی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ایسے تمام واقعات کی فوری و آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ جرائم ماضی قریب میں 'آر ایس ایف' کے ہاتھوں زمزم، الغنینہ اور اردمتا میں ڈھائے گئے مظالم کی یاد دلاتے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے گئے اور خواتین کو منظم طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات میں بالخصوص فور، مسالیت اور زغاوہ نسل سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد انہیں خوفزدہ اور ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا ہے۔
ماہرین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ہرممکن اقدامات کرتے ہوئے اس خونریزی کا خاتمہ کرائے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، لاپتہ افراد کو ڈھونڈا جائے، امداد کی فراہمی اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور جرائم کے ذمہ داروں اور انہیں اسلحہ و مدد فراہم کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔