پاکستان: غذائیت سے بھرپور ’بے نظیر نشوونما پروگرام‘ کے کامیاب نتائج
غذائی کمی پاکستان میں صحت عامہ کا سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کی مدد سے چلائے جانے والے 'بے نظیر نشوونما پروگرام' کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔
اس پروگرام کے تحت حاملہ خواتین اور بچوں کو قبل و بعد از پیدائش نگہداشت، ویکسینیشن، نشوونما کی نگرانی، مقوی غذا اور صفائی و غذائیت سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے بڑھوتری میں کمی کے مسئلے کا شکار ہیں جو دائمی غذائی قلت کی علامت ہے اور بچوں کی نشوونما، صحت اور طویل مدتی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا علاج ممکن نہیں۔ اسی لیے زندگی کے ابتدائی 1,000 ایام میں اس کی روک تھام بہت اہم ہے۔
سماجی تحفظ کے منصوبے 'بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام' (بی آئی ایس پی) کے اس ذیلی پروگرام کے تحت ایسی ماؤں اور بچوں پر توجہ دی جا رہی ہے جو سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔
37 لاکھ خواتین اور بچوں کی مدد
غذائی قلت کا مسئلہ پاکستان کو ہر سال 17 ارب ڈالر کا نقصان پہنچاتا ہے جو مجموعی قومی آمدنی (جی این آئی) کا 6.4 فیصد ہے اور اس کے نتیجے میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب ملک کی پیش رفت سست پڑ رہی ہے۔
'بے نظیر نشوونما پروگرام' 2020 میں شروع ہوا اور اس میں دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ پروگرام 542 سہولت مراکز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے اور اب تک 37 لاکھ خواتین اور بچے اس سے مسفید ہو چکے ہیں جن میں 38 ہزار شدید غذائی قلت اور طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔
مستفید ہونے والے خاندانوں کو 'بی آئی ایس پی' کے ذریعے مشروط نقد امداد دی جاتی ہے تاکہ گھریلو سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ بچوں اور ماؤں کو غذائیت سے بھرپور 50 سے 75 گرام خصوصی پیسٹ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ ان کی خوراک میں کمی کو پورا کیا جا سکے۔
اس پروگرام کے تحت درمیانے اور شدید درجے کی غذائی کمی کی جانچ اور علاج بھی کیا جاتا ہے جبکہ سنگین کیس عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے قائم 169 غذائیت استحکامی مراکز میں بھیجے جاتے ہیں جہاں ان کی جان بچانے کے لیے فوری طبی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی شراکت داری
یہ پروگرام پاکستان کی حکومت کے زیر انتظام ہے جسے اقوام متحدہ کے اداروں کا تعاون حاصل ہے۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) سہولت مراکز اور غذائیت سے بھرپور خصوصی خوراک کی تقسیم میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' ان بچوں اور ماؤں کے لیے غذائیت استحکام کے مراکز کا انتظام سنبھالتا ہے جو طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں جبکہ عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) علاج کی غرض سے خصوصی خوراک فراہم کرتا ہے اور سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کی مہمات چلاتا ہے۔
غیرمعمولی نتائج
آغا خان یونیورسٹی کے ادارہ برائے عالمی صحت و ترقی کی جانب سے گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے تیار کی گئی ایک وسط مدتی جائزہ رپورٹ کے مطابق، بینظیر نشوونما پروگرام کے غیر معمولی نتائج سامنے آئے ہیں۔
دو سال سے کم عمر بچوں میں بڑھوتری کی کمی کی شرح میں 6.4 فیصد، کم وزن پیدائش میں 5.6 فیصد اور پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک بڑھوتری کے مسائل کی شرح میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ماں کے دودھ پلانے، حفاظتی ٹیکوں اور قبل از پیدائش طبی معائنوں میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہ نتائج عالمی سطح پر کسی بھی غذائی پروگرام کے لیے اب تک سب سے مؤثر اثرات میں شمار ہوتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سماجی تحفظ اور غذائیت سے متعلق مربوط اقدامات کس طرح زندگیاں بچانے اور بچوں کی نشوونما بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بینظیر نشوونما پروگرام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ماؤں اور کم عمر بچوں کے لیے مخصوص معاونت، مضبوط حکومتی عزم اور اقوام متحدہ کی شراکت داری کے امتزاج سے ملک بھر میں غذائی قلت کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں اور صحت مند نشوونما کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔