تحفظ ماحول: جنگلوں کی بقاء کے لیے برازیل کی قیادت میں عالمی فنڈ کا قیام
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اہم کردار ادا کرنے والے استوائی جنگلات کی بقا کو لاحق سنگین خطرات کے تناظر میں عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) کے میزبان برازیل نے ایک نیا اقدام شروع کیا ہے جس کے ذریعے ان جنگلوں کا تحفظ کرنے والے ممالک کو بھاری مالی فوائد حاصل ہوں گے۔
'استوائی جنگلات کے لیے دائمی سہولت' کے نام سے یہ مالیاتی اقدام برازیل کے شہر بیلیم میں شروع کیا گیا جہاں سوموار سے 'کاپ 30' کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ یہ فنڈ دراصل استوائی جنگلات کا انحطاط کامیابی سے روکنے والے ممالک کے لیے انعام ہے جس کے ذریعے 74 ممالک میں سالانہ 4 ارب ڈالر تقسیم کیے جائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد جنگلات کاٹنے سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں انہیں محفوظ رکھنے کی مالی قدر بڑھانا ہے۔
فنڈ کے تحت جو ممالک اپنے جنگلات کو محفوظ رکھیں گے انہیں فی ہیکٹر سالانہ چار ڈالر دیے جائیں گے، اور یہ ادائیگی سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصدیق شدہ کارکردگی کی بنیاد پر ہو گی۔
کل 74 ممالک اس فنڈ کے لیے اہل ہیں جن میں مجموعی طور پر ایک ارب ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر استوائی اور ذیلی استوائی جنگلات موجود ہیں۔ایسے ترجیحی علاقوں میں ایمیزون، اٹلانٹک فاریسٹ، کانگو بیسن، میکونگ اور جنوب مشرقی ایشیا کا جزیرہ بورنیو شامل ہیں۔
طویل المدتی موسمیاتی استحکام
فنڈ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ استوائی جنگلات زمین میں زندگی کی سانس بھرتے ہیں لیکن ان پر متواتر حملے ہو رہے ہیں اور انہیں طویل المدتی فائدے کے بجائے وقتی منافع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استوائی جنگلات موسمیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ جرات مندانہ منصوبہ ہے جو کھڑے جنگلات کو خالی زمین سے زیادہ قیمتی بناتا، تحفظ کو موقع کے ساتھ اور یکجہتی کو مشترکہ خوشحالی سے جوڑتا ہے۔
ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے اس فنڈ میں ایک ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔
'کاپ 30' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایناٹونی نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس فنڈ کے تحت ہر ملک کو کی جانے والی والی ادائیگیوں کا 20 فیصد حصہ براہ راست مقامی لوگوں کو دیا جائے گا تاکہ ان لوگوں کی مدد ہو سکے جو اپنے علاقوں میں اور دیگر جگہوں پر جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ برازیلی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ نہ صرف جنگلات کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے بلکہ قدیمی مقامی باشندوں سمیت ان لوگوں کو بھی انعام دینا چاہتی ہے جو ان کے تحفظ میں سرگرم ہیں۔
تحفظ جنگلات کا عالمی اتحاد
اس فنڈ کی تخلیق کا آغاز 2023 میں دبئی میں ہونے والی 'کاپ 28' میں ہوا تھا جو اب 'کاپ 30' سے قبل باضابطہ عمل میں آ چکی ہے۔ اب تک استوائی جنگلات والے پانچ ممالک اس میں شامل ہو چکے ہیں جن میں کولمبیا، گھانا، جمہوریہ کانگو، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں۔
اس فنڈ کے لیے ممکنہ سرمایہ کار ممالک میں جرمنی، متحدہ عرب امارات، فرانس، ناروے اور برطانیہ شامل ہیں جو سرمایہ کاری کے ایک مشترکہ نظام میں حصہ ڈالیں گے جہاں منافع سرمایہ کار اور جنگلات والے ممالک کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
اربوں کی سرمایہ کاری
امید کی جا رہی ہے کہ سرمایہ کار حکومتیں آئندہ برسوں میں اس فنڈ کے لیے 25 ارب ڈالر فراہم کریں گی اور اس کے ذریعے نجی ذرائع سے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی اضافی سرمایہ کاری بھی متحرک کی جا سکے گی۔ برازیل کا اندازہ ہے کہ یہ فنڈ سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر پیدا کر سکتا ہے جو جنگلات کے تحفظ کے لیے دستیاب موجودہ رعایتی مالی وسائل سے تین گنا زیادہ ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر جنگلات کی مالی معاونت اب بھی ناکافی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کے مطابق، اس شعبے میں سالانہ سرمایہ کاری کو 2030 تک 300 ارب ڈالر تک پہنچانا ضروری ہے جو 2023 میں 84 ارب ڈالر تھی جبکہ 2050 تک اس کا حجم 498 ارب ڈالر ہونا چاہیے۔
جنگلات کے محافظوں کی معاونت
جنگلات کے تحفظ کو مالی انعامات سے جوڑنے کے اس اقدام کا مقصد موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے کی عالمی کوششوں میں تبدیلی لانا ہے۔
یہ اقدام ایک منصفانہ، جامع اور قابل بھروسہ مالیاتی نظام کی طرف پیش رفت کی علامت بھی ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مدد ان لوگوں تک پہنچے جو اپنے ہاتھوں، دل اور اپنے ورثے کے ذریعے جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں۔
'کاپ 30' 21 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس اجلاس میں عالمی رہنما، مذاکرات کار اور مختلف شراکت دار شریک ہوں گے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو تیز کیا جا سکے جبکہ امسال خاص توجہ استوائی جنگلات کو تحفظ دینے کے قدرتی طریقوں پر مرکوز ہو گی۔