انسانی کہانیاں عالمی تناظر

حفاظتی ٹیکہ مہم: ڈبلیو ایچ او پاکستان میں طبی کارکنوں کی تربیت میں مصروف

پاکستان کے ایک دیہی ماحول میں ایک خاتون ہیلتھ کیئر ورکر ایک چھوٹے بچے کو پولیو ویکسین پلا رہی ہے۔
Asim Khan مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ خسرہ اور روبیلا کی ویکسین بھی دی جائے گی۔

حفاظتی ٹیکہ مہم: ڈبلیو ایچ او پاکستان میں طبی کارکنوں کی تربیت میں مصروف

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان میں طبی عملے کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ کارکنوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی تربیت دے رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے 6 تا 59 ماہ عمر کے 3 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے تحفظ ملے گا۔

ملک میں بچوں کو ان بیماریوں سے بچانے کے لیے 17 سے 29 نومبر تک ایک مہم چلائی جائے گی جس کی بدولت بچوں میں قوت مدافعت کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جو بصورت دیگر آئندہ سال 5 سال سے کم عمر کے 67 لاکھ سے زیادہ بچوں کی صحت و زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اس مہم کے تحت پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام (پی ای آئی) کے اشتراک سے ایسے اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ خسرہ اور روبیلا کی ویکسین بھی دی جائے گی جہاں اس بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ دیگر سے زیادہ ہے۔ یہ اشتراک 'پی ای آئی' اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کے مشترکہ کام کا حصہ ہے۔

پاکستان میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈا پینگ کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد بالکل واضح ہیں کہ حفاظتی ٹیکے زندگی بچاتے ہیں اور بچوں کو خسرہ اور روبیلا جیسی جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او' کو صحت عامہ کے اس اہم اقدام میں پاکستان کو مدد فراہم کرنے پر فخر ہے۔

طبی عملے کی جامع تربیت

مہم کے آغاز سے قبل ویکسین الائنس (گاوی) کی مالی معاونت اور 'ڈبلیو ایچ او' کی مدد سے حفاظتی ٹیکے لگانے والوں، ان کے مددگار عملے اور سماجی کارکنوں کو جامع تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ تربیتی پروگرام ہر عملے کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں جن میں معیاری اور تفصیلی منصوبہ بندی، انجیکشن لگانے کے محفوظ طریقے، معاشرتی شمولیت اور حفاظتی ٹیکوں کے بعد ممکنہ جسمانی ردعمل (اے ای ایف آئی) سے نپٹنے جیسے پہلو شامل کیے گئے ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' اس مہم کے لیے پاکستان کے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (ایف ڈی آئی) اور اس کے وفاقی و صوبائی سطح پر چلنے والے 'ای پی آئی' منصوبوں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔ علاوہ ازیں، مہم کے لیے منصوبہ بندی، اعداد وشمار کے تجزیے، تیاری کے جائزے اور نگرانی وجانچ میں تکنیکی رہنمائی بھی مہیا کی جائے گی۔

'ایف ڈی آئی' کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صوفیہ یونس نے کہا ہے کہ خسرہ اور روبیلا جیسی بیماریوں سے تحفظ کے لیے بچوں کو ویکسین دینا قومی ترجیح ہے اور حکومت پاکستان ہر بچے تک پہنچنے اور اس مرض کی پیچیدگیوں سے ہونے والی افسوسناک اموات کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

صحت عامہ کا سنگین مسئلہ

خسرہ اور روبیلا جیسے امراض پاکستان میں صحت کا سنگین مسئلہ ہیں اور 101 اضلاع کی 432 یونین کونسلوں سے ان کے پھیلاؤ کی اطلاعات آئی ہیں۔ رواں سال ملک بھر میں خسرہ کے پھیلاؤ میں خطرناک اضافہ دیکھنے کو ملا اور ہر 10 لاکھ میں سے 80 افراد میں اس کی تشخیص ہوئی۔ 'ڈبلیو ایچ او' کےمطابق 10 لاکھ آبادی میں 20 افراد سے زیادہ کو یہ بیماری لاحق ہو تو اسے وبا سمجھا جاتا ہے۔

رواں سال 30 ستمبر تک سامنے آنے والے خسرہ کے 16 ہزار سے زیادہ مریضوں میں 57 فیصد سے زیادہ ایسے بچے تھے جنہیں کبھی اس بیماری کے خلاف حفاظتی ٹیکہ نہیں لگایا گیا۔