افغانستان: پوست کی کاشت میں کمی کا رحجان، یو این او ڈی سی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں رواں سال پوست کی کاشت میں 2024 کے مقابلے میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور خطے میں افیون کی پیداوار اور سمگلنگ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک جائزے کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ رواں سال افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر پر پوست کاشت کی گئی جو 2024 کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔ 2022 میں منشیات کی پیداوار پر پابندی عائد ہونے سے پہلے 232,000 ہیکٹر رقبے پر پوست کاشت ہو رہی تھی۔
ملک میں افیون کی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے اور رواں سال 2024 کے مقابلے میں 32 فیصد کم افیون پیدا ہوئی جبکہ اس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ 296 ٹن لگایا گیا ہے۔ کاشتکاروں کو افیون کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی 48 فیصد کمی ہوئی جو 2024 میں 260 ملین امریکی ڈالر سے کم ہو کر 2025 میں 134 ملین ڈالر رہ گئی۔ پابندی کے بعد بہت سے کسانوں نے دیگر فصلیں کاشت کرنا شروع کر دیں تاہم خراب موسمی حالات کے باعث 40 فیصد سے زیادہ زمین بنجر پڑی رہی۔
اسی دوران، پاکستان اور ایران سے تقریباً 40 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی کے سبب روزگار اور وسائل کے حصول کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ یہ تمام عوامل اور انسانی امداد میں کمی کے باعث پوست کی کاشت کا رجحان دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
افیون کی قیمتوں میں کمی
افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان کے لیے 'یو این او ڈی سی' کے علاقائی نمائندے اولیور سٹولپے نے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے غیر قانونی فصلوں کی کاشت پر قابو پانے کا راستہ طویل مدتی اور مربوط سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے جس میں بین الاقوامی شراکتیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے نہ صرف افغان کسانوں کو متبادل ذرائع آمدن کے ذریعے بااختیار بنانا ہو گا بلکہ غیر قانونی فصلوں کے خاتمے، منشیات کی سمگلنگ کے انسداد اور بہتر روک تھام و علاج کے ذریعے منشیات کی طلب میں کمی لانے پر بھی توجہ دینا ہو گی۔
جائزے کے مطابق، رواں سال خشک افیون کی قیمت میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی جو 2024 میں 780 امریکی ڈالر فی کلوگرام کے مقابلے میں کم ہو کر 570 ڈالر رہ گئی تاہم یہ اب بھی پابندی سے پہلے کی اوسط قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
بین الاقوامی مسئلہ
افیون کی قیمت اور پیداوار میں کمی بیک وقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منڈی کی حرکیات میں تبدیلی آ رہی ہے جو ممکنہ طور پر دوسرے ممالک میں افیون کی غیرقانونی کاشت کی کوششوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ کاشت کے اعداد و شمار، قیمتوں اور ضبطیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں منشیات کی منڈیوں اور اس کی سمگلنگ میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی نائب خصوصی نمائندہ جارجیٹ گینین نے کہا ہے کہ افغانستان میں منشیات کا مسئلہ اس کی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی رسد، طلب اور سمگلنگ میں افغان اور بین الاقوامی دونوں فریق شامل ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام کلیدی فریقوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ دوحہ عمل کے تحت قائم انسداد منشیات ورکنگ گروپ افغان حکام اور بین الاقوامی برادری کے درمیان ایک اہم رابطہ پلیٹ فارم کے طور پر مشترکہ حل تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سنتھیٹک منشیات کی بڑھتی پیداوار
پابندی کے بعد سنتھیٹک (غیرزرعی ذرائع سے بنائی جانے والی) منشیات، خصوصاً میتھم فیٹامائن کی پیداوار اور سمگلنگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2024 کے آخر تک افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں ان کی ضبطیوں کی تعداد 2023 کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ تھی۔
زرعی بنیاد پر تیار ہونے والی افیون کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے جس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ منظم جرائم پیشہ گروہ مصنوعی منشیات کی خریدوفروخت کی جانب راغب ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی تیاری نسبتاً آسان اور ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے اور ان کی پیداوار موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔
اسی لیے (یو این او ڈی سی) نے کہا ہے کہ انسداد منشیات کی حکمت عملی کو اب صرف افیون کی پیداوار اور فروخت روکنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مصنوعی منشیات کی نگرانی، تفتیش، متعلقہ تجزیوں اور ان کی طلب میں کمی لانے کے اقدامات کو بھی اس اس کا حصہ بنانا ہو گا۔