انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ استحکام فورس سلامتی کونسل سے منظور ہونی چاہیے، یو این چیف

غزہ میں ایک گنبد اور محراب والے دروازے کے ساتھ ایک بڑی، تباہ شدہ پتھر کی عمارت کے سامنے گہرے رنگ کی جیکٹ اور پتلون میں ایک شخص ملبے کے راستے پر کھڑا ہے۔
© WFP/علی جد اللہ غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی بیکری دو سالہ جنگ میں کھنڈر بن چکی ہے۔

غزہ استحکام فورس سلامتی کونسل سے منظور ہونی چاہیے، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی کسی بھی عبوری تبدیلی میں مغربی کنارے کے ساتھ اس کا اتحاد برقرار رہنا چاہیے اور اس عمل کی بنیاد فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سماجی ترقی پر دوسرے عالمی سربراہی کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کا حجم بڑھایا جائے اور یہ مدد ہر شہری تک پہنچے۔ امریکہ نے اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ اسرائیل بتدریج ان رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرے جو تاحال موجود ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس اصول کی حمایت کی ہے کہ جنگ بندی برقرار رہنی چاہیے اور تمام فریقین اس کی پاسداری کریں۔ اقوام متحدہ کا موقف واضح ہے اور یہ کسی ایک یا دوسرے ملک کے ساتھ تعاون پر منحصر نہیں۔

فلسطینی علاقوں کے اتحاد کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ غزہ میں سلامتی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کا مسودہ تیار کر رہا ہے جس پر دیگر رکن ممالک سے مشاورت کی جا رہی ہے تاہم ادارے کا سیکرٹریٹ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو بھی نیا انتظام، ادارہ یا استحکام برقرار رکھنے کے لیے کوئی فورس قائم کی جائے تو اسے سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس میں بین الاقوامی فورس بھی شامل ہو گی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان نکات میں سے ایک ہے جن پر بات چیت جاری ہے اور فلسطینی پولیس فورس کی تربیت اور تشکیل عمل میں لانا بھی ضروری ہے۔ یہ عبوری عمل اس صورتحال تک پہنچنا چاہیے جس میں غزہ اور مغربی کنارہ دونوں متحد ہوں اور فلسطینی اتھارٹی اپنے علاقے میں مکمل طور پر اپنا اختیار استعمال کرے۔

غزہ میں امدادی کارروائیاں

دوسری جانب، اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ادارے کے 60 روزہ امدادی منصوبے کے تحت غزہ میں لوگوں کو مدد پہنچانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ اتوار کو ادارے اور اس کے شراکت داروں نے 80 ٹرکوں پر مشتمل سامان اٹھایا جس میں خوراک، جانوروں کا چارہ، رہائش کے لیے درکار سامان، موسم سرما میں استعمال کے کپڑے اور حفظان صحت کی اشیا شامل ہیں۔

شراکت داروں کے مطابق، انہوں نے گزشتہ روز کیریم شالوم کے سرحدی راستے سے امدادی اشیا کے تقریباً 750 صندوق شمالی غزہ میں منتقل کیے۔ علاوہ ازیں، چار ٹرکوں میں ادویات اور طبی سامان بھی پہنچایا گیا۔

غذائی امداد کی فراہمی

13 اکتوبر سے خوراک کی عام تقسیم دوبارہ شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد غذائی امداد حاصل کر چکے ہیں جو امدادی شراکت داروں کے زیرانتظام 46 مراکز کے ذریعے فراہم کی گئی۔ رواں ماہ خاندانوں کو خوراک کے دو پارسل فراہم کیے جائیں گے جبکہ اکتوبر میں انہیں صرف ایک دیا گیا تھا۔

وسط اکتوبر سے گزشتہ اتوار تک اقوام متحدہ اور شراکت داروں نے سرحدی مقامات سے جانوروں کے لیے 210 میٹرک ٹن چارہ جمع کیا اور اسے دیرالبلح میں تقریباً 1,700 چرواہوں میں تقسیم کیا گیا۔

امدادی شراکت داروں نے بچوں کو شدید غذائی قلت سے لاحق مسائل کے خلاف تحفظ دینے کے لیے مقوی دلیے کے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ پیکٹ بھی جمع کیے ہیں۔ یہ مقدار بڑی تعداد میں بچوں کی ایک ماہ کے لیے ضروریات پوری کر سکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پانی اور صفائی کی خدمات فراہم کرنے والے شراکت دار بھی اپنی کارروائیاں بڑھا رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں نے مقامی حکام کی مدد سے غزہ شہر میں پانی کے تین کنوؤں کی بحالی میں بھی تعاون فراہم کیا ہے۔