غیر فوجی کشتیوں پر مہلک امریکی حملے ممکنہ عالمی جرم، انسانی حقوق ماہرین
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غرب الہند اور مشرقی بحرالکاہل (پیسیفک) میں کشتیوں پر امریکی فوج کے مہلک حملے بین الاقوامی جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، 2 ستمبر 2025 سے اب تک ایسے کم از کم 15 حملوں کی اطلاع آ چکی ہے جن میں 64 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائیاں عدالتی نگرانی یا قانونی عمل کے بغیر انجام دی گئیں جن کا تسلسل بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سمندر میں بلاجواز ہلاکتیں نہ صرف زندگی سے محروم کرنے کے ناجائز عمل کی ممانعت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی بحری قانون کے خلاف بھی ہیں۔ ان حملوں میں چھوٹی غیرفوجی کشتیوں کو نشانہ گیا جبکہ ان میں سوار افراد کو گرفتار کرنے یا ان کے خلاف قانونی شواہد پیش کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔
دوسری جانب، امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے مشتبہ منشیات فروشوں اور 'نارکو دہشت گردوں' کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے جو نامزد جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروہوں سے وابستہ تھے۔ تاہم، ماہرین نے کہا ہے کہ یہ حملے نہ تو کسی مسلح تنازع کے تناظر میں ہوئے اور نہ ہی ان کا مقصد قومی دفاع یا کسی فوری خطرے کا جواب دینا تھا۔
قانون کی پامالی
ماہرین نے کہا ہے کہ متواتر اور منظم انداز میں ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی کی عکاسی کرتی ہیں۔ تمام ممالک کی مسلح افواج پر لازم ہے کہ وہ ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام کریں اور یقینی بنائیں کہ ان کا عملہ بین الاقوامی قانون اور ضابطوں کی مکمل پاسداری کرے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو ایسے احکامات ماننے سے انکار کرنا چاہیے جو واضح طور پر غیر قانونی ہوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں یا انسانی حقوق کی دیگر سنگین پامالیوں کا سبب بن سکتے ہوں۔
حملے روکنے کا مطالبہ
ماہرین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی تمام مہلک بحری کارروائیاں فوری طور پر روک دے اور ستمبر 2025 سے اب تک ہونے والے ہر حملے کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کرے۔ موثر احتساب میں سچائی، انصاف اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے معاوضہ بھی شامل ہونا چاہیے۔
ماہرین نے یاد دلایا کہ تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ زندگی کے حق کا تحفظ کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔