انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کی 22 کروڑ 40 لاکھ خواتین موثر مانع حمل ذرائع تک رسائی سے محروم

انڈونیشیا کے پالانگگا ہیلتھ سینٹر میں ایک خاتون کونسلر مشاورت کے دوران ایک خاتون کو مانع حمل ماڈل دکھا رہی ہے۔
© UNICEF/Shehzad Noorani انڈونیشیا میں صحتِ عامہ کی ایک کارکن ایک خاتون کو مانع حمل طریقوں کے بارے میں بتا رہی ہیں۔

دنیا کی 22 کروڑ 40 لاکھ خواتین موثر مانع حمل ذرائع تک رسائی سے محروم

خواتین

1990 کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں جدید مانع حمل طریقے استعمال کرنے والے افراد کی تعداد دوگنا بڑھ چکی ہے لیکن اس کے باوجود تقریباً 22 کروڑ 40 لاکھ خواتین اب بھی خاندانی منصوبہ بندی کے محفوظ اور موثر طریقے استعمال نہیں کرتیں۔

جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے بتایا ہے کہ مانع حمل کے استعمال میں اضافہ صحت عامہ کی ایک بڑی کامیابی ہے جس نے لاکھوں خواتین کو غیر ارادی حمل سے بچنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل بنایا۔ تاہم، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی بہت سے افراد کا بچوں کی پیدائش پر اپنے اختیار کا بنیادی انسانی حق پامال ہو رہا ہے۔

Tweet URL

ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ترقی پذیر علاقوں میں رہنے والی خواتین کو جدید مانع حمل تک رسائی نہیں ہوتی۔ ان کی عدم دستیابی کے نتیجے میں غیر ارادی حمل میں اضافہ ہوتا ہے اور غیر محفوظ اسقاط حمل کے باعث زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے اثرات صحت سے کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں اور لڑکیوں میں نوعمری کے حمل، سکول چھوڑنے کے خدشات اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرے میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

'یو این ایف پی اے' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈین کیتا نے کہا ہے کہ مانع حمل طریقے زندگیاں بچاتے ہیں اور ان کے اہم معاشی فوائد بھی ہیں۔ مانع حمل سہولتوں پر خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کے بدلے میں تقریباً 27 ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

مانع حمل بارے پانچ غلط فہمیاں

1 ۔ مانع حمل طریقے غیر محفوظ ہیں

'یو این ایف پی اے' کے مطابق جدید مانع حمل ادویات دنیا میں سب سے زیادہ تجویز کردہ اور سب سے زیادہ تحقیق شدہ ادویات میں شامل ہیں۔

غیر ارادی حمل سے وابستہ طبی خطرات کسی بھی تجویز کردہ مانع حمل طریقے سے لاحق خطرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

2 ۔ مانع حمل ادویات اسقاط حمل کا باعث بنتی ہیں

مانع حمل طریقے اسقاط حمل یا حمل ضائع ہونے کا سبب نہیں بنتے۔ یہ بیضہ بننے کے عمل کو روک کر کام کرتے ہیں یعنی حمل کو ہونے سے پہلے ہی روک دیتے ہیں۔

3 ۔ ضبط تولید سے تولیدی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

مانع حمل ادویات بانجھ پن کا باعث نہیں بنتیں۔ بعض ہارمونی طریقے (جیسا کہ انجیکشن) بیضہ بننے اور حیض کے دوبارہ شروع ہونے میں عارضی تاخیر پیدا کر سکتے ہیں لیکن یہ مستقل بانجھ پن کا سبب نہیں بنتے۔

4 ۔ قدرتی مانع حمل طریقے ہارمونی طریقوں سے زیادہ محفوظ ہیں

آج کل ایام حیض کی نگرانی یا جسمانی درجہ حرارت دیکھ کر باروری سے آگاہی جیسے متبادل طریقے سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہے ہیں لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ یہ طریقے حمل روکنے میں واضح طور پر کم موثر ہیں۔

5 ۔ اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں یا آپ کا ساتھی نہیں چاہتا تو مانع حمل استعمال نہیں کرنا چاہیے

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن نوجوانوں کو جنسی و تولیدی صحت سے متعلق معلومات اور سہولیات میسر ہوتی ہیں وہ زیادہ جنسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے بلکہ انہیں یہ معلومات ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

'یو این ایف پی اے' نے کہا ہے کہ ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اسے حاملہ ہونا ہے یا نہیں۔ کسی کو بھی تحفظ کے بغیر جنسی تعلق پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ تولیدی جبر ہے جو بدسلوکی کے زمرے میں آتا ہے۔