انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے وعدے اہداف کے حصول میں ناکافی

اوزون کی تہہ ماحول کے تحفظ میں اہم ہے۔
UN Photo/R. Kollar
اوزون کی تہہ ماحول کے تحفظ میں اہم ہے۔

موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے وعدے اہداف کے حصول میں ناکافی

موسم اور ماحول

حکومتوں کی جانب سے اٹھائے گئے نئے موسمیاتی اقدامات کی بدولت بڑھتی عالمی حدت میں معمولی حد تک ہی کمی آئی ہے اور دنیا کے لیے موسمیاتی خطرات اور نقصانات ناصرف برقرار ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

یہ انتباہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج سے متعلق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی تازہ ترین رپورٹ میں جاری کیا گیا ہے جو آئندہ ہفتے برازیل کے علاقے بیلیم میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) سے قبل شائع کی گئی ہے۔

Tweet URL

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دہائی قبل عالمی رہنماؤں نے پیرس معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ تاہم گرین ہاؤس گیسوں کے متواتر اخراج کے باعث اس ہدف کا حصول آسان دکھائی نہیں دیتا۔

قومی موسمیاتی منصوبے

رکن ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے اقدامات کو اپنے طے شدہ ملکی موسمیاتی منصوبوں کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں جو ہر پانچ سال کے بعد اقوام متحدہ کو پیش کیے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے تیسرے مرحلے کے منصوبے 2035 تک کے عرصہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ رواں سال ستمبر کے اختتام تک صرف 60 ممالک (ایک تہائی سے بھی کم) نے اپنے منصوبے جمع کرائے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمام منصوبوں پر مکمل طور سے عملدرآمد ہو تو اس صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں 2.3 سے 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے جو گزشتہ سال کی پیش گوئی (2.6 تا 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ) سے قدرے بہتر ہے۔

موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو یہ اضافہ 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جو گزشتہ سال کے اندازے (3.1 ڈگری سینٹی گریڈ) سے معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

ناکافی پیش رفت

'یونیپ' نے وضاحت کی ہے کہ بہتر طریقہ ہائے کار اختیار کرنا ہی اس بہتری کا سبب ہے تاہم پیرس معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے باعث اس بہتری میں 0.1 ڈگری کمی آ جائے گی۔ اس طرح دیکھا جائے تو نئے موسمیاتی منصوبوں سے موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے میں قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی اور رکن ممالک پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول سے بہت دور ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں رکھنے کے لیے ہر سال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2019 کی سطح کے مقابلے میں 35 فیصد کمی آںا ضروری ہے۔ اسی طرح، 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اس کمی کو 55 فیصد تک لے جانا ہو گا۔

'یونیپ' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ اگرچہ قومی موسمیاتی منصوبوں کی بدولت بہتری کی جانب کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن یہ رفتار اب بھی ناکافی ہے۔ اسی لیے محدود وقت اور بڑھتی جغرافیائی سیاسی مشکلات کی موجودگی میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات درکار ہوں گے۔یہ سب کچھ کرنا ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے ثابت شدہ بہترین طریقہ ہائے کار موجود ہیں

باہمت اقدامات کی ضرورت

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2100 تک عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں لانے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر اور تیزرفتار کمی لائے بغیر چارہ نہیں۔

عالمی حدت میں معمولی سی کمی بھی بہت بڑے پیمانے پر مالی طبی و جانی نقصانات کو کم کر دیتی ہے۔ یہ نقصانات غریب اور کمزور طبقات کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ اگر عالمی برادری چاہے تو اس مسئلے پر قابو پانا اور موسمیاتی اقدامات کو تیز کرنا ممکن ہے۔

پیرس معاہدے کے بعد عالمی حدت میں اضافے کے تخمینے 3 تا 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر تقریباً 2.5 ڈگری تک آ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہوا اور شمسی توانائی جیسی ٹیکنالوجی بھی دستیاب ہے جو بڑے پیمانے پر اخراجات میں کمی لا سکتی ہے۔

انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ سستی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قابل تجدید توانائی سے لے کر میتھین کے اخراج میں کمی لانے تک دنیا موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے تمام اقدامات سے آگاہ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ رکن ممالک پوری طرح میدان میں اتریں، اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کریں اور ایسے باہمت اقدامات موسمیاتی اقدامات کریں جن سے ناصرف اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو بلکہ انسانی صحت میں بھی بہتری آئے، روزگار مہیا ہوں، توانائی کا تحفط ہو سکے اور موسمیاتی مضبوطی کا ہدف حاصل ہو سکے۔