سوڈان: الفاشر میں قتل و غارت پر عالمی فوجداری عدالت کو تشویش
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے سوڈان کے شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے مبینہ قتل عام، بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مظالم تشدد کے اس وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں جس نے اپریل 2023 سے پورے ڈارفر خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
دفتر نے مزید کہا کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو یہ جرائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کے بنیادی معاہدے 'میثاق روم' کے تحت جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
دفتر نے یاد دہانی کرائی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1593 (2005) کے تحت 'آئی سی سی' کو ڈارفر میں جاری تنازع کے دوران کیے جانے والے جرائم پر قانونی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
جاری تحقیقات
پراسیکیوٹر کا دفتر اپریل 2023 میں سوڈان جنگ کے آغاز سے ہی ڈارفر میں ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ایسے اقدامات میں علاقوں کے دورے، متاثرین کے گروہوں اور سول سوسائٹی سے قریبی رابطے اور قومی حکام و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دفتر الفاشر میں مبینہ جرائم کی جاری تحقیقات کے تحت فوری اقدامات کر رہا ہے تاکہ مستقبل کی عدالتی کارروائیوں کے لیے شواہد کو محفوظ اور جمع کیا جا سکے۔
دفتر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جنجاوید ملیشیا کے کمانڈر علی محمد علی عبد الرحمٰن المعروف علی کوشائب کو 2004 میں ڈارفر میں کیے گئے اسی نوعیت کے جرائم پر آئی سی سی کی جانب سے حال ہی میں سنائی گئی سزا ایک واضح انتباہ ہے۔ اس تنازع میں ملوث تمام فریقین کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے بھیانک جرائم پر احتساب ضرور ہو گا۔