انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر میں قتل عام اور جنسی مظالم کی کھلی چھوٹ

سوڈان میں حکومت اور مخالف ملیشیا گروہ آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
© Avaaz/Giles Clarke
سوڈان میں حکومت اور مخالف ملیشیا گروہ آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر میں قتل عام اور جنسی مظالم کی کھلی چھوٹ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے، خواتین اور لڑکیاں جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں، ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الفاشر ایک اور تاریک جہنم میں ڈوب گیا ہے۔ شہر پر حکومت مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا قبضہ ہونے کے بعد ہزاروں لوگ پیدل نقل مکانی کر رہے ہیں، شہریوں کو اجتماعی طور پر قتل کیا جا رہا ہے جبکہ بھوک بھی لوگوں کی جانیں لے رہی ہے۔

Tweet URL

سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت کی موجودہ صورتحال پر منعقدہ اجلاس میں ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'آر ایس ایف' کے جنگجو گھر گھر جا کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ باوثوق اطلاعات کے مطابق شہر میں وسیع پیمانے پر پھانسیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے اور سعودی زچہ بچہ ہسپتال میں تقریباً 500 مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔

عالمی قوانین کی پامالی

افریقہ کے لیے اقوام متحدہ کی معاون سیکرٹری جنرل مارتھا فوبے نے الفاشر کے سقوط کو سلامتی کی صورت حال میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے سوڈان اور پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ کردفان کے علاقے میں بھی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے جہاں 'آر ایس ایف' نے گزشتہ ہفتے ایک اہم شہر بارا پر قبضہ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور 'آر ایس ایف' کی جانب سے ریاست نیل ابیض، جنوبی کردفان، مغربی ڈارفر اور خرطوم سمیت نئے علاقوں میں ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں اجتماعی مظالم، نسلی بنیادوں پر تشدد اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں بشمول جنسی تشدد کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔

اگرچہ متحارب فریقین نے شہریوں کو تحفظ دینے کے وعدے کیے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ الفاشر میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

عالمی بے حسی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے الفاشر اور بارا میں اجتماعی قتل، ماورائے عدالت پھانسیوں اور نسلی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ بارا میں حالیہ دنوں کم از کم 50 شہری قتل کیے گئے جن میں سوڈانی ہلال احمر کے پانچ رضاکار بھی شامل ہیں۔

ٹام فلیچر نے کونسل کو بتایا کہ الفاشر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ 20 سال پہلے ڈارفر کے حالات کی ہولناک یاد دلاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ عالمی برادری سوڈان کے حالات پر بے تعلق اور بے حس دکھائی دیتی ہے۔ یہ بحران بنیادی طور پر بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے میں عالمی برادری کی ناکامی ہے۔

سوڈان میں اپریل 2023 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں 40 لاکھ سے زیادہ لوگ ہمسایہ ممالک چاڈ، جنوبی سوڈان اور وسطی جمہوریہ افریقہ کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں جس امدادی کارروائیوں پر شدید دباؤ آیا ہے اور سرحدی علاقوں میں عدم استحکام بڑھ گیا ہے۔

شدید غذائی قلت

ٹام فلیچر نے بتایا کہ سوڈان کے اندر دو کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں یا آبادی کے 40 فیصد سے زیادہ حصے کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ الفاشر سے انخلا کرنے والوں کی بڑی تعداد کا رخ 50 کلومیٹر دور تاویلہ کی طرف ہے جہاں پہلے ہی ہزاروں متاثرین پناہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں ان لوگوں کو مدد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری لانے کے لیے سلامتی کونسل کو فوری اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مظالم روکے جا سکیں، امدادی رسائی محفوظ بنائی جائے اور ہتھیاروں کی ترسیل پر موثر پابندی عائد کی جائے جس سے جنگ کے شعلوں کو ہوا مل رہی ہے۔

ٹام فلیچر نے کونسل کے ارکان سے کہا کہ وہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی الفاشر کی تازہ ترین تصاویر کا مطالعہ کریں جن میں ریت پر خون ہی خون دکھائی دیتا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ دنیا یہ سب کچھ روکنے میں کیونکر ناکام رہی۔