انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

ووٹنگ کے نتائج United Nations جنرل اسمبلی کے ہال میں ایک بڑی اسکرین پر آویزاں ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe قرارداد کے حق میں 165 اور مخالفت میں سات ووٹ آئے جبکہ 12 ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے۔

جنرل اسمبلی: کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیوبا کے خلاف امریکہ کی طویل معاشی پابندیوں کا خاتمہ کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ قرارداد مسلسل 32 سال سے منظور کی جا رہی ہے۔

193 رکنی جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں 165 اور مخالفت میں سات ووٹ آئے جبکہ 12 ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے۔ گزشتہ سال اسمبلی میں حاضر ارکان میں سے 187 نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ دو ارکان (امریکہ اور اسرائیل) نے اس کی مخالفت کی اور ایک رکن (مالدووا) غیرحاضر رہا۔

امسال امریکہ، اسرائیل، ارجنٹائن، ہنگری، پیراگوئے، شمالی مقدونیہ اور یوکرین نے قرارداد کی مخالفت کی ہے جبکہ البانیہ، بوسنیا و ہرزیگووینا، کوسٹاریکا، چیک ریپبلک، ایکواڈور، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، مراکش، پولینڈ، مالدووا اور رومانیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد کا متن

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کیوبا کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

اس میں جنرل اسمبلی نے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ کے ہیلمز-برٹن ایکٹ 1996 جیسے قوانین کو مسترد کریں جنہیں کیوبا اور دیگر ممالک بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

قرارداد میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ آئندہ سال کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے عبوری ایجنڈے میں اس موضوع کو دوبارہ شامل کیا جائے گا تاکہ اس پر بحث جاری رکھی جا سکے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں کیوبا پر پابندیوں کے کچھ پہلوؤں میں نرمی لائی گئی تھی جبکہ 2017 کے بعد (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں) پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا۔

رکن ممالک پر اس قرارداد کی پابندی کرنا قانوناً لازم نہیں ہے۔ لیکن اس کی منظوری ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے اس موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ یکطرفہ اور سرحد پار اثرانداز ہونے والی جابرانہ پالیسیوں کی مذمت ہونی چاہیے۔

A/80/L.6 پر United Nations جنرل اسمبلی کے ووٹ کا اسکرین شاٹ، کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے قرارداد کے نتائج دکھا رہا ہے۔
UN WebTV قرارداد کے حق، مخالفت اور رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے ممالک۔

کیوبا اور امریکہ کا ردعمل

قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پاریلا نے پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں اجتماعی سزا کے مترادف ہیں جو کیوبا کے لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور صحت، توانائی اور خوراک جیسے ضروری شعبوں میں ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جیفری بارٹوس نے اپنے ردعمل میں کیوبا کی حکومت پر اقوام متحدہ میں سال ہا سال سے ’سیاسی بازی گری‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ان زیادتیوں کی کڑی مذمت کرتا ہے جو کیوبا کی حکومت اپنے ہی لوگوں کے خلاف کر رہی ہے اور امریکی مفادات کے خلاف دوسری حکومتوں اور اداروں کی مدد میں مصروف ہے۔

پولینڈ اور رومانیہ کی وضاحت

پولینڈ نے رائے شماری سے اپنی غیر حاضری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے چنیدہ اطلاق کے خلاف احتجاج ہے۔

چیک ریپبلک، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی نمائندگی کرنے والے پولینڈ کا کہنا تھا کہ کیوبا کی جانب سے روس کی جارحیت کی حمایت ناقابل قبول ہے جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کیوبا کے شہری روسی فوج کی جانب سے یوکرین میں لڑ رہے ہیں۔

رومانیہ نے بھی انہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس نے ماضی میں ہمیشہ اس قرارداد کی حمایت کی ہے لیکن کسی جارحیت میں دیگر ممالک کی شمولیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور کیوبا کو روس کی حمایت ترک کرنی چاہیے۔