انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر ہسپتال میں قتل عام، مریضوں سمیت 460 افراد ہلاک

قتل عام کا واقعہ سعودی زچگی ہسپتال میں پیش آیا۔
© UNFPA
قتل عام کا واقعہ سعودی زچگی ہسپتال میں پیش آیا۔

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر ہسپتال میں قتل عام، مریضوں سمیت 460 افراد ہلاک

امن اور سلامتی

سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے مرکزی شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ہاتھوں خوفناک مظالم کی اطلاعات آ رہی ہیں جہاں ایک ہسپتال میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں سمیت 460 سے زیادہ لوگوں کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اس قتل عام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ سعودی زچگی ہسپتال میں پیش آیا اور انہیں اس خبر پر شدید صدمہ اور افسوس ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے سوڈان میں صحت کے مراکز پر 285 حملے ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 1,204 افراد ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طبی مراکز پر تمام حملے فوری اور غیرمشروط طور پر بند کیے جائیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام طبی کارکنوں اور شہریوں کو تحفظ دیا جائے۔

شدید انسانی بحران

الفاشر پر 'آر ایس ایف' کا قبضہ ہونے کے بعد شہر سے فرار ہونے والے بہت سے لوگ 60 کلومیٹر دور تاویلہ میں پناہ لے رہے ہیں۔ یہ شہر چند روز پہلے تک اس علاقے میں حکومت کے زیرانتظام آخری بڑا مرکز تھا جسے اس کی مخالف 'آر ایس ایف' ملیشیا نے 500 سے زیادہ یوم سے محاصرے میں لے رکھا تھا۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ تاویلہ پہنچنے والے کئی لوگ پیاس، زخموں اور شدید ذہنی صدمے کا شکار ہیں۔ امدادی ادارے لوگوں کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے تشدد کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

'کوئی بچہ محفوظ نہیں'

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ الفاشر کی مکمل صورتحال کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کیونکہ مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہے مگر اندازے کے مطابق، ایک لاکھ 30 ہزار بچے سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، بچوں کے اغوا، قتل، انہیں زخمی کرنے اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، امدادی کارکنوں کے حراست میں لیے جانے یا انہیں قتل کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

یونیسف نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی یقینی بنانے، شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے، پناہ کی تلاش میں نکلنے والے خاندانوں کو محفوظ راستہ دینے اور مظالم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے بتایا ہے کہ شمالی کردفان کے علاقے بارا میں اس کے پانچ مقامی رضاکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ادارے نے اسے ظالمانہ اور بے معنی اقدام قرار دیتے ہوئے عہد کیا ہے کہ ملک بھر میں امدادی کام جاری رکھے جائیں گے۔