انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا تحفظ ماحول کے نئے دور میں داخل، سائمن سٹیل

تھائی لینڈ میں شمسی توانائی کا ایک فارم۔
ADB/Zen Nuntawinyu
تھائی لینڈ میں شمسی توانائی کا ایک فارم۔

دنیا تحفظ ماحول کے نئے دور میں داخل، سائمن سٹیل

موسم اور ماحول

ماحولیاتی بحران اب کوئی دور کا خطرہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک حقیقی، فوری اور مہنگا مسئلہ بن چکا ہے۔ خشک سالی، سیلاب، طوفان اور جنگلوں کی آگ جیسے شدید موسمی واقعات ہر خطے میں لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان اثرات کے باعث قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور معیشتیں کمزور ہو رہی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے سربراہ سائمن سٹیل نے کہا ہے کہ دنیا ماحولیاتی اقدامات میں پیش رفت کر رہی ہے مگر اس کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے پیش کردہ موسمیاتی منصوبوں کی جائزہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ دنیا ماحولیاتی اقدامات اور عزم کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ رکن ممالک ایسی قومی ماحولیاتی حکمت عملی اور اہداف طے کر رہے ہیں جن کی رفتار اور وسعت پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پیرس معاہدہ حقیقی نتائج دے رہا ہے لیکن اب اس کی رفتار تیز اور اس کا دائرہ مزید منصفانہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کی منتقلی لاکھوں نئی ملازمتوں اور کھربوں کی سرمایہ کاری کی ضمانت دیتی ہے۔ موثر ماحولیاتی اقدامات صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ اب ایک نئی معاشی ترقی کا محرک بنتے جا رہے ہیں۔

موسمیاتی اہداف اور منصوبے

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف رکن ممالک کی جانب سے پیش کردہ 89 فیصد منصوبے تمام شعبوں میں ضروری اقدامات کا احاطہ کرتے ہیں جبکہ تقریباً تین چوتھائی میں موسمیاتی تبدیلی سے موافقت پیدا کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک نقصان اور تلافی سے متعلقہ مسائل کو اپنے منصوبوں کا حصہ بنا رہے ہیں اور مزید بڑی تعداد میں ممالک صنفی مساوات، نوجوانوں کی شمولیت، ماحول دوست توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی، جنگلات اور سمندروں کے تحفظ اور کاربن کے اخراج پر قیمت عائد کرنے جیسے طریقہ کار کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ، کئی ممالک اپنے موسمیاتی اہداف کو نیٹ زیرو ہدف کے حوالے سے طویل المدتی مقاصد سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کاربن کے اخراج کو روکنے کے پرعزم اعلانات کے باوجود اندازہ ہے کہ 2035 تک اس اخراج میں تقریباً 10 فیصد کمی ہی ممکن ہے جو ایک تاریخی موڑ ضرور کہا جا سکتا ہے مگر 1.5 ڈگری سیلسیئس کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

ماحول دوست توانائی کا انقلاب

قابل تجدید توانائی اب دنیا میں توانائی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے جسے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تیز رفتار جدت نے تقویت دی ہے۔ ماحول دوست توانائی، موثر بنیادی ڈھانچے اور نئی ٹیکنالوجی کی بدولت معیشت میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے جو دنیا کو ایک محفوظ، صحت مند اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔

برازیل میں آئندہ ماہ ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس 'کاپ 30' کے تناظر میں سائمن سٹیئل نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماحولیاتی تعاون برقرار رکھنے کا واضح عزم کریں۔ تمام شعبوں میں اور پیرس معاہدے کے اہداف پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے اور ماحولیاتی اقدامات کو لوگوں کی زندگیوں سے جوڑا جائے تاکہ ان کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔