انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک

مرکزی بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے مہلک ترین ہجرتی راستوں میں سے ایک ہے۔
© SOS Méditerranée/Flavio Gasperini مرکزی بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے مہلک ترین ہجرتی راستوں میں سے ایک ہے۔

لیبیا: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک

مہاجرین اور پناہ گزین

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے لیبیا کے شہر سورمان کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں کم از کم 18 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

زاویہ کے ساحل سے روانہ ہونے والی لکڑی کی کشتی کو خراب موسم کے باعث سفر سے چند گھنٹے بعد ہی یہ حادثہ پیش آیا۔ 'آئی او ایم' کے مطابق کشتی پر سوار 64 افراد کو بچا کر بحفاظت ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں سوڈان کے 31، بنگلہ دیش کے 18، پاکستان کے 12 اور صومالیہ کے تین شہری شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی قومیتوں کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

'آئی او ایم' نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر پر نکلنے والے افراد کس قدر سنگین خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔

خطرناک پانی

مرکزی بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین ہجرتی راستوں میں سے ایک ہے۔ لاپتہ پناہ گزینوں سے متعلق 'آئی او ایم' کے منصوبے کے مطابق، 2025 کے آغاز سے اب تک 1,046 افراد اس راستے پر ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں جن میں سے 527 لیبیا کے ساحل کے قریب حادثات کا شکار ہوئے۔

آئی او ایم اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل ایسے حادثات میں زندہ بچ جانے والوں کو طبی امداد، نفسیاتی مدد، اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ادارے نے علاقائی تعاون کے فروغ، محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستوں میں توسیع اور حادثات کا شکار ہونے والے تارکین وطن کے لیے تلاش و بچاؤ کی بروقت اور مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔