انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا فلسطینی حقوق کی پامالیوں پر جوابدہی یقینی بنائے، تحقیقاتی کمیشن

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ نوی پلے (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Mark Garten
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ نوی پلے (فائل فوٹو)۔

دنیا فلسطینی حقوق کی پامالیوں پر جوابدہی یقینی بنائے، تحقیقاتی کمیشن

انسانی حقوق

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تمام دستیاب ذرائع سے کام لیتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنائیں اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ان کی ریاست کے قیام کے لیے وسیع عالمی حمایت فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے ذریعے قائم کیے گئے اس کمیشن نے 16 ستمبر کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک کو یقینی بنانا چاہیے کہ فلسطینی علاقوں میں حقوق کی پامالی سے متاثرہ تمام افراد کے لیے انصاف اور جوابدہی ممکن ہو۔

Tweet URL

اس مقصد کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی تحقیقات کی حمایت کی جائے اور رکن ممالک دہری شہریت رکھنے والے اپنے ایسے شہریوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کریں جن پر فلسطینی علاقوں میں جرائم کے ارتکاب کا شبہ ہو۔

اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اسرائیل اور تمام ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ نسل کشی کا خاتمہ ہو اور ذمہ داروں کو سزا ملے۔

فلسطینیوں کی نسل کشی

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے 1948 کے 'کنونشن برائے انسدادِ نسل کشی' میں بیان کردہ پانچ میں سے چار ایسے افعال کا ارتکاب کیا ہے جو نسل کشی کی ذیل میں آتے ہیں۔ ان میں مخصوص انسانی گروہ کا قتل، اس کے ارکان کو شدید جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانا، ان پر مکمل یا جزوی تباہی کا باعث بننے والے حالات زندگی مسلط کرنا اور ان کے تولیدی حقوق کو غصب کرنا یا نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

کمیشن کی سربراہ نیوی پلے نے کمیٹی کو بتایا کہ اگرچہ جنگ بندی غزہ میں اسرائیل کے علاقائی اہداف کے نفاذ کو موخر کر سکتی ہے لیکن علاقے میں پہلے سے کی گئی تبدیلیاں واپس نہیں لی گئیں۔ اسرائیلی حکام کے حالیہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ ان کے اہداف مضبوطی سے قائم ہیں۔

کثیرالفریقی نظام کی ناکامی

کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں اکتوبر 2023 سے نافذ اسرائیلی پالیسیاں اور اقدامات فلسطینیوں کی ان کے علاقوں سے زبردستی منتقلی، اسرائیلی یہودی شہری موجودگی کو بڑھانے اور مغربی کنارے کے زیادہ تر حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی واضح نیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کثیرالفریقی عالمی نظام فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی اپنے علاقوں سے جبری بیدخلی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

کمیشن پر الزامات

اسرائیل کی نمائندہ نے کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک 7 اکتوبر سے دو جنگیں لڑ رہا ہے جن میں ایک اس کی قومی سلامتی اور دوسری سچائی کے لیے جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹیں غیر جانبدار تحقیقات نہیں بلکہ یہ حماس کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی دانستہ کوشش ہیں۔ کمیشن اپنے قیام سے ہی جانبدار رہا ہے۔ اس نے حماس کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا جس کی جانب سے ہزاروں راکٹ اسرائیل پر برسائے گئے۔

ان کا کہنا تھا، کمیشن نے ثابت کیا کہ یہ ایک غیر جانبدار تحقیقاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک سیاسی آلہ ہے جو اسرائیل کو شیطانی صورت میں دکھاتا ہے اور امن یا فہم میں اس کا کوئی کردار نہیں رہا۔

جواباً، نیوی پلے نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود کمیشن اپنے اس نتیجے پر قائم رہے گا کہ نسل کشی ہوئی ہے اور اس کے لیے انصاف، جوابدہی اور تحقیقات ضروری ہیں۔ جب تک اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ جاری نہیں ہوتا اس وقت تک اقوام متحدہ اپنے نتائج پر قائم ہے جن کے حق میں اس نے بہت سے شواہد پیش کیے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نسل کشی ہوئی ہے اور جاری ہے۔

منصفانہ امن کا راستہ

فلسطینی نمائندے نے کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانی امداد کے بطور ہتھیار استعمال کے بارے میں اطلاعات یا معلومات کی کمی نہیں رہی اور نہ ہی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اپیلوں میں کوئی کمی آئی۔

اس عرصہ میں جو چیز دکھائی نہ دی وہ جنگ بندی کے حصول کے لیے موثر دباؤ تھا۔ انہوں نے حالیہ جنگ بندی کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر، قطر اور ترکی کے تعاون کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

فلسطینی نمائندےکا کہنا تھا کہ انہوں نے8 اکتوبر 2023 کو خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پوری آبادی کو اجتماعی سزا دی جائے گی۔ اسی لیے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مداخلت کی درخواستیں کی گئیں۔ تاہم، پوری شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، لوگوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سےبے دخل کیا گیا، انہیں بھوکا رکھا گیا اور محصور کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جواب طلبی ہی انتقام کے چکر کو توڑنے اور منصفانہ اور دیرپا امن کے وعدے کو پورا کرنے کا واحد راستہ ہے۔