انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر اور کردفان سے مظالم کی ہولناک اطلاعات

خانہ جنگی کے باعث نقل مکانی پر مجبور افراد شمالی ڈارفر میں پناہ کی تلاش میں مدد کے منتظر بیٹھے ہیں۔
ERR-Taweela خانہ جنگی کے باعث نقل مکانی پر مجبور افراد شمالی ڈارفر میں پناہ کی تلاش میں مدد کے منتظر بیٹھے ہیں۔

سوڈان خانہ جنگی: الفاشر اور کردفان سے مظالم کی ہولناک اطلاعات

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کو سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر کے بڑے حصوں پر قبضے کے بعد شہریوں کے قتل سمیت سنگین مظالم کی ہولناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ادارے کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا ہے کہ 'آر ایس ایف' کی جانب سے الفاشر میں سوڈانی فوج کی چھٹی انفینٹری ڈویژن کے ہیڈکوارٹر پر قبضے کا اعلان ہونے کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات خطرناک حالات کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے الفاشر میں نسلی بنیاد پر وسیع تر مظالم کے ممکنہ ارتکاب سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور ان کے محفوظ انخلا کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ سوڈان کے تنازع میں مداخلت کرنے اور متحارب فریقین کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک پر ایسے اقدامات سے گریز پر زور دے۔ ملائیشیا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف سوڈانی فوج اور 'آر ایس ایف' کے مابین لڑائی نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت بھی ہے جو جنگ بندی اور سیاسی حل کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔

قبائلی وجوہات پر قتل و غارت

'او ایچ سی ایچ آر' نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ الفاشر سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے عام شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ان ہلاکتوں کے پیچھے قبائلی وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ایسے افراد کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے جو ہتھیار پھینک چکے ہیں۔

دفتر کو ایسی متعدد ویڈیو موصول ہوئی ہیں جن میں 'آر ایس ایف' کے جنگجوؤں کی جانب سے درجنوں نہتے مردوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا جا رہا ہے یا وہ زندہ و مردہ حالت میں زمین پر پڑے ہیں اور ان کے قریب کھڑے مسلح افراد انہیں سوڈان فوج کے سپاہی قرار دے رہے ہیں۔

ماضی کے واقعات کے پیش نظر شمالی ڈارفر میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کا سنگین خطرہ ہے۔ دفتر کو یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ 22 سے 26 اکتوبر کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں متعدد عام شہری اور مقامی امدادی رضاکار ہلاک ہوئے۔ پانچ افراد کو 'آر ایس ایف' کے جنگجوؤں نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ شہر کے اندر خوراک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

شمالی کردفان میں ہلاکتیں

'او ایچ سی ایچ آر' کو ریاست شمالی کردفان کے شہر بارا پر 'آر ایس ایف' کے قبضے کے بعد شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ہلاک کیے جانے والوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ سوڈان کی فوج کو مدد فراہم کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ان واقعات میں درجنوں لوگوں کو قتل کیا گیا۔

وولکر ترک نے 'آر ایس ایف' کو یاد دلایا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت دینا اس کی ذمہ داری ہے۔ قانون کے مطابق، ہتھیار پھینک دینے والوں کے خلاف تشدد ممنوع اور بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جرم ہے۔

تمام متحارب فریقین کے ہاتھوں بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر جواب دہی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

امدادی رسائی میں مشکلات

سوڈان میں اقوام متحدہ کی مستقل نمائندہ اور امدادی رابطہ کار ڈنیز براؤن نے بتایا ہے کہ الفاشر سے بڑی تعداد میں لوگ انخلا کر رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ اب بھی شہر میں موجود ہیں جنیہں فرار کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اکثر انہیں راستے میں تاوان کے لیے روک لیا جاتا ہے کیونکہ بیشتر گزرگاہیں ملیشیاؤں کے کنٹرول میں ہیں۔

محفوظ علاقوں میں پہنچنے والے شہری پانی کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں بڑی تعداد زخمیوں کی بھی ہے جنہیں امدادی تنظیمیں ضروری مدد فراہم کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ تمام متحارب فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے لیکن کسی نے امدادی مقاصد کے لیے محفوظ راستے کی ضمانت نہیں دی جبکہ اپریل 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد 128 سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی امداد، بالخصوص خوراک کی رسائی کو روکنا بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ سوڈان میں اس حوالے سے انتہائی افسوسناک صورتحال ہے جہاں ضرورت مند لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی میں کڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔

ڈنیز براؤن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ الفاشر میں امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ خوراک، ادویات، صحت و صفائی اور پناہ کا سامان لے کر 42 ٹرک جولائی سے تیار کھڑے ہیں جنہیں کسی بھی وقت الفاشر کی جانب بھیجا جا سکتا ہے۔