امدادی کٹوتیاں: حقوق خواتین کی غیر سرکاری تنظیموں کو وجودی خطرہ
حالیہ عرصہ میں کئی حکومتوں کی جانب سے فراہم کردہ مالی وسائل میں کمی آنے سے خواتین اور لڑکیوں کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ انہیں تحفظ دینے والی غیرسرکاری تنظیموں کا وجود خطرے میں ہے۔
خواتین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کی نئی رپورٹ کے مطابق، خواتین کی تنظیموں کے لیے امدادی وسائل میں ایسے وقت کمی آ رہی ہے جب ایک چوتھائی ممالک میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسی بیشتر تنظیمیں حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے یا خواتین کے مسائل پر طویل المدتی وکالت کے بجائے فوری اور بنیادی خدمات فراہم کرنے تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی 428 تنظیموں سے بات کی گئی جن میں ایک تہائی سے زیادہ نے امدادی مالی وسائل کی کمی کے باعث خواتین کے خلاف تشدد روکنے کے پروگرام معطل یا بند کر دیے ہیں۔ اسی طرح، 40 فیصد سے زیادہ تنظیموں کو خواتین کے لیے پناہ گاہوں، قانونی معاونت، نفسیاتی مدد اور صحت کی سہولیات جیسی خدمات کو محدود یا بند کرنا پڑا ہے۔
خواتین کے لیے تباہ کن حالات
رپورٹ کے مطابق، 78 فیصد تنظیموں نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کی بنیادی خدمات تک رسائی میں کمی آئی ہے جبکہ 59 فیصد نے کہا کہ تشدد کے واقعات پر ذمہ داروں کو سزا نہ ملنے اور اس کے معمول بن جانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
یو این ویمن میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے شعبے کی سربراہ کالیوپی منگیرو نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے لیے کثیرالمقاصد امدادی وسائل میں اضافہ کریں۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں تشدد کے خلاف جدوجہد میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں لیکن اب انہیں تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ امدادی وسائل میں کمی کو دہائیوں کی محنت سے حاصل کی گئی کامیابیوں کے ضیاع کا سبب نہیں ہونا چاہیے۔
امدادی وسائل کی شدید قلت
خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سب سے عام پامالیوں میں سے ایک ہے۔ اندازے کے مطابق، ایک تہائی یا 73 کروڑ 60 لاکھ خواتین زندگی میں کبھی نہ کبھی جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں یہ تشدد کسی قریبی مرد ساتھی کی جانب سے ہوتا ہے۔
قبل ازیں، یو این ویمن نے خبردار کیا تھا کہ بحران زدہ علاقوں میں خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی زیادہ تر تنظیموں کو مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے اور ان میں سے تقریباً نصف بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں ایک مرتبہ پھر اسی خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب دنیا بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کی 30ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی لائحہ عمل ہے جس پر حکومتوں نے صنفی برابری اور خواتین کے حقوق کے لیے اتفاق کیا تھا اور اس کا مرکزی ہدف خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہے۔