تیونس: کشتی الٹنے سے 40 تارکین وطن ہلاک، آئی او ایم کا اظہار افسوس
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے تیونس میں مہدیا کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی ڈوبنے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں 40 ہلاکتوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی ساحلی علاقے سلقتہ سے روانہ ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں 19 مرد، 9 خواتین اور پانچ سال سے کم عمر کے 12 بچے شامل ہیں۔ جن 30 افراد کو بچا لیا گیا ہے ان کا تعلق کیمرون، آئیوری کوسٹ اور گنی سے ہے۔
'آئی او ایم' نے کہا ہے کہ یہ واقعہ امسال شمالی افریقہ کے ساحل کے قریب ریکارڈ کیے گئے سب سے مہلک سمندری حادثات میں سے ایک ہے۔ مرکزی بحیرہ روم کے راستے پر ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مربوط کارروائیوں کی ضرورت ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ مرکزی بحیرہ روم دنیا میں مہاجرت کا سب سے خطرناک راستہ ہے جہاں رواں سال تقریباً 1,000 افراد ہلاک اور لاپتہ ہوئے ہیں۔ ان میں تیونس کے ساحل کے قریب 30 بچوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ 2014 سے اب تک اس راستے پر مجموعی طور پر25,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
'آئی او ایم' نے مہاجرت کے اہم راستوں پر واقع ممالک کی مدد جاری رکھنے، مہاجرین اور پناہ گزینوں کو تحفظ کی فراہمی پر مبنی اقدامات، حادثات کا شکار ہونے والوں کو بچانے کی کارروائیوں اور محفوظ و باقاعدہ ہجرت کے راستوں کو بڑھانے کی کوششوں کا عزم دہرایا ہے۔