انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ترقی پذیر ممالک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے نئے عالمی فورم کا قیام

ویتنام کے شہر ٹرانگ آن میں ایک فیکٹری میں کام کرنے والی دو خواتین کارکنوں نے خام چاول کے کریکرز کو ایک اسمبلی لائن پر رکھ دیں۔
© ADB/Eric Sales ویتنام کی ایک فیکٹری میں چاولوں کے بسکٹ بنائے جا رہے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے نئے عالمی فورم کا قیام

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے تعاون سے آج ایک نیا عالمی فورم قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانا ہے جس کے باعث تین ارب سے زیادہ لوگوں کی نمائندہ معیشتیں صحت یا تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر کہیں بڑی رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔

'سیویل فورم برائے قرض' غریب ممالک کے لیے قرضوں کی منصفانہ شرائط طے کرنے، ان کی تنظیم نو اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بنائے گئے مالیاتی نظام میں طویل مدتی اصلاحات کو فروغ دے گا۔ یہ فورم سپین کی میزبانی میں قائم کیا گیا ہے جو قرضوں کے بحران پر عالمی توجہ کو برقرار رکھنے اور رواں سال جون میں 'مالیات برائے ترقی' کے موضوع پر ہونے والی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس (ایف ایف ڈی 4) میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دے گا۔

Tweet URL

اس فورم میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کے حکومتی نمائندے، وزرائے خزانہ، اور قرض دہندہ ممالک شامل ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریش نے اسے قرضوں کے مسئلے پر بین الاقوامی مکالمہ قرار دیا ہے جس کا مقصد مالیاتی انصاف کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قرض ترقی پذیر معیشتوں کے لیے نقصان دہ کے بجائے فائدہ مند ثابت ہوں۔

سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں فورم کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک ہر سال قرضوں کی ادائیگی پر 1.4 ٹریلین ڈالر خرچ کرتے ہیں اور 3.4 ارب افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جو قرض چکانے پر تعلیم یا صحت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کو یہ انتخاب درپیش نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت کرے یا قرض ادا کرے۔

'سیویل عزم' کا تسلسل

یہ فورم 'سیویل عزم' کو بھی آگے بڑھائے گا جو 'ایف ایف ڈی 4' میں منظور کیا جانے والا ایک جامع منصوبہ ہے اور اس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ منصفانہ اور پائیدار بنانا ہے۔ علاوہ ازیں، اس دستاویز میں سود کی شرح کو کم کرنے، قرض کی بروقت اور منصفانہ تنظیم نو کو ممکن بنانے اور شفافیت و جوابدہی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اس عزم کے تحت جولائی میں سپین کے شہر سیویل میں قرض لینے والے ممالک کا فورم' قائم کیا گیا تھا تاکہ  قرض کے بحران سے متاثرہ ممالک اس سے نمٹنے کی کوششوں کو مربوط کر سکیں، قانونی اور تکنیکی مہارت کا تبادلہ کریں اور ایک ایسے نظام میں اپنی آواز بلند کر سکیں جو طویل عرصہ سے بڑے قرض دہندگان کے زیراثر رہا ہے۔

مالیاتی انصاف کی جانب قدم

اس وقت 60 سے زیادہ ترقی پذیر ممالک اپنی سرکاری آمدنی کا کم از کم 10 فیصد صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے خرچ کر رہے ہیں جبکہ بہت سے ممالک کے لیے سستے قرضوں تک رسائی بھی دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت، رکن ممالک ذمہ دارانہ قرض لینے اور دینے کے لیے مشترکہ اصول وضع کریں گے، مالیاتی بحران سے بچاؤ کے نظام کو مضبوط بنائیں گے اور قرضوں کے عالمی نظام میں اصلاحات پر غور کریں گے جو دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر اور غیرمنظم ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ سیویل فورم برائے قرض مالیاتی انصاف فراہم کرنے میں مدد دے گا۔ اقوام متحدہ کو اس کوشش کا حصہ بننے پر فخر ہے اور اس کے لیے وہ سپین کی حکومت کے مشکور ہیں۔