انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیمی مزاحمت میں اضافہ، ڈبلیو ایچ او

دواسازی کی ایک درجہ بندی، بشمول کیپسول اور گولیاں، مختلف چھالے والے پیک میں۔
© Unsplash/Roberto Sorin ادویات کے خلاف مزاحم بیکٹیریا تیزی سے مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو اس مسئلے سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت نہیں رکھتے۔

اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیمی مزاحمت میں اضافہ، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں عام انفیکشن پیدا کرنے والے ہر چھ میں سے ایک بیکٹیریا جراثیم کش ادویات (اینٹی بائیوٹکس) کے خلاف مزاحم ہے۔ 2018 سے 2023 تک 40 فیصد سے زیادہ جراثیم کش ادویات کے خلاف اس مزاحمت میں 5 تا 15 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

ادویات کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت سے متعلق 'ڈبلیو ایچ او' کی نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق،100 سے زیادہ ممالک سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ بنیادی اینٹی بایوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت عالمی صحت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ عام استعمال ہونے والی 22 ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہ ادویات پیشاب، معدے، خون اور جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن (خصوصاً گونوریا) اور دیگر امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔

اس جائزے میں مختلف اقسام کی انفیکشن کا باعث بننے والے آٹھ بیکٹیریا کا تجزیہ بھی کیا گیا جن میں ای کولائی، کلیبسیلا، سالمونیلا، شیگیلا، نیسیریا گونوریا اور دیگر شامل ہیں۔ تجزیے کے مطابق، یہ تمام جراثیم ادویات کے خلاف تیزی سے طاقت پکڑ رہے ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ جراثیمی مزاحمت میں تیز رفتار اضافہ ایک بڑھتا ہوا عالمی بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، موثر نگرانی، اور جراثیم کش ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ہیکساگونل گرڈ پیٹرن کے ساتھ سیاہ پس منظر کے خلاف مختلف اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کی 3D مثال، بشمول cocci اور bacilli۔
CDC

تیزرفتار جراثیمی مزاحمت

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، جراثیمی مزاحمت کی سب سے زیادہ شرح جنوب مشرقی ایشیائی اور مشرقی بحیرہ روم کے خطوں میں پائی گئی جہاں ایک تہائی انفیکشن میں اس کا ثبوت ملا۔ افریقی خطے میں 20 فیصد کیس ایسے تھے جن میں اس مزاحمت کی تصدیق ہوئی۔

وہ ممالک یا علاقے جہاں صحت کے نظام کمزور ہیں اور جراثیم کی بروقت تشخیص یا علاج کی بہتر سہولت موجود  نہیں ہوتی وہاں جراثیمی مزاحمت زیادہ عام ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے خبردار کیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت بڑھنے کی رفتار طبی شعبے میں ترقی کی رفتار سے زیادہ تیز ہو چکی ہے جس سے دنیا بھر میں لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ رکن ممالک کو اس مسئلے سے نمٹنے کے نظام مضبوط بنانے کے علاوہ جراثیم کش ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہو گا اور ہر شخص کو درست ادویات، معیاری تشخیصی سہولیات اور ویکسین تک رسائی ہونی چاہیے۔

بے اثر ادویات

رپورٹ کے مطابق، ادویات کے خلاف مزاحم بیکٹیریا تیزی سے مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو اس مسئلے سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان میں ای کولائی اور کلیبسیلا نمونیا سب سے نمایاں ہیں جو خون میں انفیکشن پیدا کرنے والے عام اور خطرناک جراثیم سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں 40 فیصد سے زیادہ ای کولائی اور 55 فیصد سے زیادہ کلیبسیلا اب تھرڈ جنریشن سیفیلو سپورنز (انفیکشن کا بنیادی علاج) کے خلاف مزاحم ہو چکے ہیں۔ افریقہ کے خطے میں یہ مزاحمت 70 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں کارباپینمز اور فلووروک وئنولونز جیسی اہم ادویات اب ای کولائی، کلیبسیلا، سالمونیلا اور ایسینیٹوبیکٹر جیسے جراثیموں کے خلاف موثر نہیں رہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت میں تیزتر اضافہ علاج کے موثر طریقوں کو محدود کر رہا ہے جس سے دنیا بھر میں اموات اور طبی پیچیدگیاں بڑھنے کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر ایسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے جہاں صحت کے لیے وسائل کم ہیں۔

حفاظتی پوشاک میں طبی سائنس دان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں بائیو سیفٹی لیول II لیبارٹری میں نوول کورونا وائرس کے لیے RT-PCR ٹیسٹ پر کام کرنے کے لیے پائپیٹ کا استعمال کر رہا ہے۔
© WHO/Ploy Phutpheng

'ڈبلیو ایچ او' کی سفارشات

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ جراثیمی مزاحمت کی نگرانی کے نظام (گلاس) میں شامل ممالک کی تعداد 2016 میں 25 تھی جو بڑھ کر 2023 میں 104 ہو گئی ہے۔ تاہم، 2023 میں 48 فیصد ممالک نے گلاس کو کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا اور جو ممالک معلومات فراہم کر رہے ہیں ان میں سے تقریباً نصف کے پاس اس مقصد کے لیے کوئی مستند اور قابل اعتماد نظام موجود نہیں ہیں۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کیے جانے والے سیاسی اعلامیے نے جراثیمی مزاحمت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے واضح اہداف طے کیے جن میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانا اور ون ہیلتھ تصور کو اپنانا بھی شامل ہے جو انسانی و حیوانی صحت اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیتا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کو جراثیموں کی تشخیص اور ان سے لاحق ہونے والی بیماریوں کے علاج کی صلاحیت بہتر بنانا ہو گی اور جراثیمی نگرانی کا قابل بھروسہ نظام وضع کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، تمام ممالک جراثیمی مزاحمت اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے متعلق 2030 تک مفصل معلومات ادارے کو فراہم کریں تاکہ اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔