افغانستان میں انٹرنیٹ کی بحالی کا یو این کی طرف سے خیرمقدم
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے بتایا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلاتی خدمات دو روز بند رہنے کے بعد بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں جو کہ خوش آئند اقدام ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر کہا ہے کہ دو روز قبل طالبان حکام کی جانب سے کوئی وجہ بتائے بغیر انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے تھے جبکہ ان کی بحالی بھی کسی اعلان یا وضاحت کے بغیر ہوئی ہے۔
انہوں نے 'یوناما' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں اقوام متحدہ کی پروازوں کے علاوہ کمرشل فضائی آمدورفت بھی اب معمول پر آتی دکھائی دے رہی ہے۔
گزشتہ روز، مشن نے افغانستان میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کے فوری اور دور رس نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے بینکاری اور مالیاتی نظام کی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب ہوں گے، خواتین اور لڑکیوں کی زندگی متاثر ہو گی، ہنگامی خدمات اور طبی سہولیات تک لوگوں کی رسائی محدود ہو جائے گی، ہوابازی کے شعبے میں خلل آئے گا اور ترسیلات زر رک جائیں گی۔
امدادی کام میں رکاوٹ
ترجمان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی اقوام متحدہ کے کام میں بھی رکاوٹ بنی چاہے یہ کابل میں سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت 'یوناما' کا کام ہو، اقوام متحدہ کے اداروں اور پروگراموں کی جانب سے انسانی امداد اور خدمات کی فراہمی ہو یا ان کے بین الاقوامی اور مقامی شراکت داروں کی سرگرمیاں ہوں۔ ان کاموں میں حالیہ زلزلہ متاثرین کو امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے پابندی کے خاتمے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ادارہ افغانستان کی صورتحال پر برابر نظر رکھے گا۔