انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضرروی، نیتن یاہو

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نیویارک میں UN جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضرروی، نیتن یاہو

اقوام متحدہ کے امور

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل خود پر دہشت گرد ریاست مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اگر حماس یرغمالیوں کو رہا کر دے تو غزہ کی جنگ فوراً ختم ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے غزہ میں نسل کشی اور قحط پھیلانے کے الزام کی تردید  کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی اکثریت 7 اکتوبر کو بھول چکی ہے لیکن اسرائیل کو 7 اکتوبر یاد ہے۔ ان حملوں کے دو سال بعد بھی اسرائیل کا عزم اور طاقت پہلے سے زیادہ روشن ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی مدد سے ایران کے جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل پروگرام تباہ کر دیے ہیں اور اسے دوبارہ عسکری جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اسرائیلی اور امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران میں جوہری افزودگی کے مقامات کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنایا۔ وہ اس جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضروری ہے اور اس پر سلامتی کونسل کی پابندیاں دوبارہ نافذ کی جانا چاہئیں۔

نسل کشی اور قحط کی تردید

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے غزہ میں نسل کشیکے الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور ان سے اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ میں کام لے رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے تقریباً سات لاکھ شہری اسرائیل کے کہنے پر محفوظ علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اگر اسرائیل کا مقصد نسل کشی ہوتا تو انہیں وہاں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دی جاتی۔

انہوں نے یہ الزامات بھی مسترد کیے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ کے عوام کو بھوکا رکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل نے غزہ میں دو ملین ٹن سے زیادہ خوراک اور امداد جانے دی ہے۔ حماس انسانی امداد کو چوری اور ذخیرہ کرتی ہے اور پھر اسے بھاری قیمتوں پر بیچ کر اپنی جنگی مشین کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ان 20 یرغمالیوں کے نام پڑھے جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے غزہ میں بڑے لاوڈ سپیکر نصب کرنے کا حکم دیا تھا جن کے ذریعے ان کی باتیں یرغمالیوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔

مغربی رہنماؤں کے لیے پیغام

اسرائیلی وزیراعظم نے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر کہا کہ انہوں نے غلط فیصلہ کیا ہے جو یہودیوں اور دنیا بھر میں بے گناہ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کو بڑھاوا دے گا۔

اسرائیل ان ممالک کو خود پر ایک دہشت گرد ریاست مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ صرف ان کی یا حکومت کی پالیسی نہیں  بلکہ اسرائیلی ریاست اور عوام کی پالیسی ہے۔

لبنان اور شام کے ساتھ امن

نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک شام کی نئی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے۔ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جس میں شام کی خودمختاری کا احترام، اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود اقلیتوں اور خاص طور پر دروز اقلیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی امن ممکن ہے اور لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز کرے۔ انہوں نے لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اعلانیہ عزم کو سراہا۔

اسرائیل کے مخالفین کا خاتمہ

نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں اور بعد ازاں لبنان، شام اور یمن سے کی گئی عسکری کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے حوثیوں کو سخت نقصان پہنچایا، حماس کی دہشت گرد مشینری کے بیشتر حصے کو کچل دیا، حزب اللہ کو معذور کر دیا، شام میں اسد حکومت کے ہتھیار تباہ کیے اور عراق میں ایران کی شیعہ ملیشیاؤں کو کسی کارروائی سے باز رکھا۔

متعدد مخالفین کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی نصف قیادت، غزہ میں یحییٰ سنوار اور لبنان میں حسن نصراللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ شام میں اسد حکومت کا نظام ختم ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق کی ملیشیاؤں کے رہنماؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تو وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ ایران کے فوجی کمانڈر اور بم بنانے والے سائنسدان بھی ختم ہو چکے ہیں۔