انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہیٹی میں سیاسی جمود جرائم پیشہ گروہوں کے لے فائدہ مند، صدر فرینک لارنٹ

ہیٹی کی منتقلی کی صدارتی کونسل کے صدر، انتھونی فرانک لارنٹ سینٹ سائر، ایک پوڈیم پر جنرل اسمبلی کے اٹھاسیویں اجلاس کے عمومی مباحثے سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe ہیٹی کے عبوری صدر اینٹنی فرینک لارنٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

ہیٹی میں سیاسی جمود جرائم پیشہ گروہوں کے لے فائدہ مند، صدر فرینک لارنٹ

اقوام متحدہ کے امور

ہیٹی کے عبوری صدر اینٹنی فرینک لارنٹ نے اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے ان کے ملک کی ٹھوس مدد کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ متواتر ہچکچاہٹ، لامتناہی بات چیت، معطل مذاکرات اور جغرافیائی سیاسی جمود سے جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں جو کہ ہیٹی کے لوگوں کے لیے مایوس کن صورت حال ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں سے صرف چار گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ یہ المیہ خطے کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے۔ روزانہ بے گناہ زندگیاں گولیوں، آگ اور خوف کے ذریعے ختم کی جا رہی ہیں۔ پورے کے پورے علاقے تشدد کی نذر ہو چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

غذائی عدم تحفظ

صدر لارنٹ نے بتایا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں، ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور لاکھوں زندگیاں صرف علاج نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں۔

انہوں نے پرعزم انداز میں کہا کہ ہیٹی امن چاہتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ان کے ملک کی جنگ میں فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات کرے جبکہ یہ گروہ تشدد کو سماجی نظام کے طور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

صدر نے خبردار کیا کہ آج عالمی برادری کو ہیٹی کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا اور ملک میں امن کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اس قدر شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ادھوری کوششیں ناکافی ہیں۔