اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کا محافظ اور انسانی حقوق کا مشعل راہ، گوتیرش
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سالانہ اجلاس میں اعلیٰ سطحی عام مباحثہ شروع ہو گیا ہے جس میں عالمی رہنما مختلف امور و مسائل پر اپنی ترجیحات اور موقف پیش کریں گے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80 سال قبل عالمی رہنماؤں نے ابتری پر تعاون، لاقانونیت پر قانون اور جنگ پر امن کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اقوام متحدہ محض ملاقاتوں کی جگہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی سمت نما، امن اور اسے برقرار رکھنے کی قوت، بین الاقومی قانون کا محافظ، پائیدار ترقی کا محرک، بحران زدہ لوگوں کے لیے سہارا اور انسانی حقوق کے لیے مشعل راہ ہے۔
سیکرٹری جنرل نے دور حاضر کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'ہم کس قسم کی دنیا کا انتخاب کریں گے؟'
ان کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے کثیر القطبی بنتی جا رہی ہے جو مثبت امر ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے مزید متنوع عالمی منظرنامے کی عکاسی ہوتی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر کثیر القطبی نظام کو مؤثر کثیر فریقی اداروں کا تعاون حاصل نہ ہو تو یہ انتشار کا باعث بنتا ہے۔
امن کا انتخاب
انہوں نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو جو فیصلے درپیش ہیں وہ کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔
سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک سے پانچ بڑے فیصلے کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون پر مبنی امن کا انتخاب پہلا فیصلہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سوڈان میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، بھوکا رکھا جا رہا ہے اور ان کی آواز دبائی جا رہی ہے جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو ناقابل بیان تشدد کا سامنا ہے۔ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔
سیکرٹری جنرل نے تنازع کے تمام فریقین اور جنرل اسمبلی کے ہال میں موجود شرکا پر زور دیا کہ وہ سوڈان میں بیرونی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جس سے خونریزی کو ہوا مل رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ
انہوں نے غزہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی ہولناکیاں ایسے فیصلوں کا نتیجہ ہیں جن میں انسانیت کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی کی سطح ان تمام تنازعات سے کہیں زیادہ ہے جن کا وہ بطور سیکرٹری جنرل مشاہدہ کر چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن پر عملدرآمد سے متعلق بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے عبوری اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل میں کیے گئے دہشت گرد حملے اور لوگوں کو یرغمال بنانے کی کارروائیاں کسی صورت قابل جواز نہیں اور نہ ہی فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے اور غزہ کی منظم تباہی کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور شہریوں کو انسانی امداد تک مکمل رسائی دینے کی اپیل کی۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی کوششوں کو جاری رکھنا ناگزیر ہے کیونکہ امن کی جانب یہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
چارٹر برائے مستقبل
بعدازاں انہوں ںے رکن ممالک کو دیگر چار اہم فیصلوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں انسانی وقار اور انسانی حقوق، ماحولیاتی انصاف، ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے فائدہ مند بنانے اور اقوام متحدہ کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر کام کرنا ہو گا۔
سیکرٹری جنرل نے چارٹر برائے مستقبل پر بھی بات کی جو رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کو زیادہ مضبوط، جامع اور موثر بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'یو این 80' اقدام کے پیچھے بھی یہی سوچ کار فرما ہے۔ اس اقدام کے تحت انہوں نے درج ذیل تجاویز پیش کیں:
اخراجات میں کمی اور کام کی تاثیر بہتر بنانے کے لیے آئندہ سال اقوام متحدہ کے بجٹ میں ترمیم
ادارے میں ایسی عملی اصلاحات کا نفاذ جن کے ذریعے ذمہ داریوں کو مزید موثر طریقے سے لاگو کیا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے اقوام متحدہ کو ایسا ادارہ بنانے کے لیے کام کرنے کی اپیل کی جو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور جدید ہو اور دنیا بھر کے لوگوں کی بہتر طور سے خدمت کر سکے۔
عام مباحثے کا باضابطہ آغاز
سیکرٹری جنرل کے خطاب کے بعد جنرل اسمبلی کی صدر، اینالینا بیئربوک نے سالانہ عام مباحثے کا باضابطہ آغاز کیا جو 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔ مباحثے میں تمام سربراہان مملکت و حکومت کو بات کا موقع دینے کے لیے ہر تقریر کے لیے 15 منٹ کی حد مقرر کی گئی ہے تاہم، کئی تقاریر اس سے کہیں زیادہ طوالت اختیار کر جاتی ہیں۔
روایتی طور پر برازیل کو عام مباحثے میں سب سے پہلے تقریر کا موقع دیا جاتا ہے جس کے بعد امریکہ کی باری آتی ہے جو اقوام متحدہ کا میزبان ملک بھی ہے۔