انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: ایران پر عائد پابندیوں میں رعایت برقرار رکھنے کی قرارداد مسترد

ایک رسمی میٹنگ کے دوران مندوبین UN سلامتی کونسل کے چیمبر میں ایک بڑی، سرکلر میز پر بیٹھے ہیں۔
UN Photo/Laura Jarriel ایران کے جوہری پروگرام کو لے کر عائد کی گئی پابندیوں کے مسئلہ پر بات کرنے کے لیے جمعہ کو سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔

سلامتی کونسل: ایران پر عائد پابندیوں میں رعایت برقرار رکھنے کی قرارداد مسترد

امن اور سلامتی

ایران کو 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت پابندیوں سے چھٹکارا دینے کی سہولت برقرار رکھنے کی تجویز سلامتی کونسل میں رائے شماری کے نتیجے میں مسترد کر دی گئی ہے جس سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے متعلق طریقہ کار (سنیپ بیک) کے حوالے سے رکن ممالک میں شدید اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

15 رکنی کونسل کے صدر جمہوریہ کوریا کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے حق میں چار ووٹ (روس، چین، الجزائر اور پاکستان) آئے جبکہ نو ارکان (ڈنمارک، فرانس، یونان، پانامہ، سیرالیون، سلوانیہ، صومالیہ، برطانیہ اور امریکہ) نے اسے مسترد کر دیا۔ گینا اور جمہوریہ کوریا نے رائے شماری میں شرکت نہیں کی۔

اس تجویز کو منظوری کے لیے مجموعی طور پر نو ارکان کی حمایت درکار تھی۔ منظوری کی صورت میں ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے 'مشترکہ جامع منصوبہ عمل' (جے سی پی او اے) سے قبل عائد کردہ اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم ہو جاتیں اور معاہدے کے تحت اسے کو دی جانے والی نرمی برقرار رہتی۔

ایک زیر تعمیر ایرانی جوہری بجلی گھر، جس میں ایک بڑی گنبد نما ری ایکٹر عمارت ہے، جس کے ارد گرد حفاظتی باڑیں اور نگرانی کے ٹاورز ہیں۔
Photo: IAEA/Paolo Contri ایران کا بشر نیوکلیئر پاور پلانٹ۔

'سنیپ بیک' کی شرائط

جولائی 2015 میں 'جے سی پی او اے' کی توثیق کے لیے منظور کی جانے والی قرارداد 2231 میں اس عمل کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کی جائیں گی اور ساتھ ہی ایک ایسا طریقہ کار بھی متعین کیا گیا ہے جس کے تحت معاہدے کے کسی بھی فریق کی جانب سے اس کی سنگین عدم تعمیل' کی صورت میں پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہیں۔ اس معاہدے کے فریقین میں چین، فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ، امریکہ، یورپی یونین اور ایران شامل ہیں۔

اگر معاہدے کا کوئی بھی دستخط کنندہ سلامتی کونسل کو کسی سنگین خلاف ورزی کی اطلاع دیتا ہے تو کونسل کا صدر 30 دن کے اندر پابندیوں میں نرمی جاری رکھنے سے متعلق ایک قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

اگر قرارداد یا تجویز منظور نہ ہو سکے تو اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں۔ باالفاظ دیگر، سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں میں نرمی برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ نہ دیے جانے کی صورت میں اقوام متحدہ کی پرانی پابندیاں خود بخود بحال ہو جاتی ہیں۔

تند و تیز مباحثہ

آج سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں روس نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے یورپی ممالک کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وہ 'سنیپ بیک' طریقہ کار کو فعال کر سکتے ہیں۔

روسی سفیر، ویزلے نیبینزیا نے کہا کہ اس طریقہ کار کو فعال کرنے یا قرارداد پر رائے شماری کی کوئی قانونی و سیاسی بنیاد موجود نہیں اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ قرارداد 2231 اور 'جے سی پی او اے' دونوں کے دائرے سے باہر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان تینوں ممالک نے تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا اور اس کے بجائے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر دی ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں۔

سفیر کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کا یہ موقف قابل قبول نہیں کہ ان کے پاس سابقہ قراردادوں کی تعزیری شقوں کو فعال کرنے کا حق موجود ہے جب کہ وہ خود اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی (بائیں سے دوسرا) اور تین دیگر مرد ایران میں کسی تنصیب کے داخلی دروازے کے سامنے کھڑے ہیں۔
© IAEA نومبر 2024 میں آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے ایران کے یورینیم افزودگی کے مراکز کا دورہ کیا تھا۔

چین، برطانیہ اور فرانس کا موقف

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل سفیر فو کونگ نے کہا کہ سنیپ بیک کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان وسیع تر اختلافات ہیں۔ اگر رائے شماری میں عجلت کی گئی تو یہ رکن ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو مزید بڑھائے گی جس سے اس مسئلے کے سفارتی حل کی کوششیں اور بھی پیچیدہ ہو جائیں گی۔

برطانیہ کی سفیر باربرا ووڈورڈ نے کہا کہ جوہری معاہدے کے یورپی شرکا کا سنیپ بیک کو متحرک کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر قانونی، جائز، وسیع اور قرارداد 2231 کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

انہوں نے 28 اگست 2025 کو فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے جمع کرائی گئی اطلاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنیپ بیک کو متحرک کرنے کے لیے صرف یہی درکار ہے کہ معاہدے کا کوئی بھی فریق ملک ایسی اطلاع دے کہ اسے یقین ہے کسی فریق نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

فرانس کے سفیر جیروم بونافون نے رائے شماری سے قبل بات کرتے ہوئے ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام اور جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ اس کے تعاون میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے میں مقررہ حد سے کہیں زیادہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جمع کر لیا ہے اور اپنی اہم جوہری تنصیبات تک 'آئی اے ای اے' کی رسائی محدود کر دی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی امن و سلامتی، اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے سنیپ بیک طریقہ کار ضروری ہے۔