غزہ: سکول بنے پناہ گاہ اور کتابوں کی بجائے کپڑوں کی گٹھڑیاں مقدر
غزہ کی نوعمر دیانا سکول کی عمارت میں رہتی ہیں جہاں ان کے ہاتھوں میں بستے اور کتابوں کے بجائے کپڑوں کی گٹھڑی اور پانی بھرنے کے برتن دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا شمار غزہ کے ان ہزاروں بچوں میں ہوتا ہے جنہیں جنگ کے باعث متواتر تیسرے سال تعلیم سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔
دیانا اور ان جیسے دیگر بہت سے بچے اب سکولوں میں قائم پناہ گاہوں میں رہتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اب نہ تو انہیں کھیلنے کے مواقع میسر ہیں اور نہ ہی وہ کچھ سیکھ پاتی ہیں۔ انہیں غزہ شہر کے علاقے شجاعیہ سے اپنے خاندان کے ساتھ بے گھر ہونا پڑا اور اب اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کا سکول ہی ان کا ٹھکانہ ہے۔
غزہ کی 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کو دو سالہ جنگ میں کئی مرتبہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ 'انروا'کے مطابق، اس وقت تقریباً 660,000 بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں تعلیم سے محروم طلبہ کے 'کھوئی ہوئی نسل' بننے کا خدشہ ہے۔ یہ بچوں کے خلاف جنگ ہے اور اسے فوراً بند ہونا چاہیے اور بچوں کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں تقریباً 10 لاکھ بچے ذہنی صدمات سے دوچار ہیں۔ علاقے میں 90 فیصد سے زیادہ سکول یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہیں مرمت اور دوبارہ تعمیر کرنے میں بڑے پیمانے پر وسائل اور وقت درکار ہوگا۔
پرامن زندگی کی خواہش
مسق نے اس جنگ کے دوران اپنے والد کو کھو دیا اور تعلیم کے نقصان نے ان کے دکھوں اور تکالیف میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی زندگی کے دو سال ضائع ہو گئے ہیں۔ اگر جنگ نہ ہوتی تو وہ اس وقت سکول جانے کی تیاری کر رہی ہوتیں۔ اب ان کا وقت پانی اور کھانے کی تلاش میں اور کمیونٹی کچن کے چکر لگانے میں گزرتا ہے۔ وہ دنیا کے دیگر بچوں کی طرح جینا چاہتی ہیں اور سوال کرتی ہیں کہ انہوں نے کون سی غلطی کی کہ انہیں اپنے والد اور گھر بار سے محروم ہونا پڑا۔
نو سالہ جانا بھی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ نے انہیں بے گھر کر دیا ہے۔ اب انہیں کھانے پینے کی چیزوں تک بھی رسائی نہیں ہے۔ وہ ماضی کی طرح معمول کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں جب انہیں سکول جانے اور پڑھنے لکھنے کے مواقع میسر تھے۔
نوعمر مالاک کے حالات بھی دیانا، مسق اور جانا جیسے ہیں۔ اب وہ پڑھائی کرنے کے بجائے پلاسٹک اور کارڈ بورڈ تلاش کرتی ہیں تاکہ کھانا تیار کرنے کے لیے آگ جلائی جا سکے۔ انہیں امید ہے کہ جنگ ختم ہو جائے گی اور وہ دوبارہ سکول جا سکیں گی۔
مغربی کنارے میں طلبہ کا نقصان
مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 46 ہزار فلسطینی پناہ گزین بچے 'انروا'کے سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز کرنے والے ہیں۔ علاقے میں ادارے کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے کہا ہے کہ سکول بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہیں جو بڑھتے ہوئے تشدد اور بے گھری کے حالات میں انہیں معیاری تعلیم اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اب بچوں کے اس سہولت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال جنین پناہ گزین کیمپ میں 'انروا' کے سکولوں میں زیرتعلیم رہنے والے بچے اب اپنے خاندانوں کے ساتھ بے گھر ہو گئے ہیں اور ان کے سکول خالی پڑے ہیں۔
مغربی کنارے کے شمالی حصے میں 30 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں میں سے ایک تہائی بچے جنین، تلکرم اور نورشمس پناہ گزین کیمپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مشرقی یروشلم میں پہلی مرتبہ 'انروا' کو اپنے سکول دوبارہ کھولنے سے روک دیا گیا ہے جنہیں رواں سال مئی میں اسرائیلی حکام نے بند کرا دیا تھا اور اس اقدام کے نتیجے میں 800 بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔
تعلیمی حق کی پامالی
رولینڈ فریڈرک نے کہا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف فلسطینی پناہ گزین بچوں کے تعلیم کے حق کی پامالی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی بھی ہے۔
مشکل ترین حالات کے باوجود 'انروا' فلسطینی اتھارٹی کے بعد مغربی کنارے میں تعلیم فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ادارہ ہے جو سکولوں، تربیتی مراکز اور ہائبرڈ طریقوں سے بچوں کو تعلیم دے رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ادارے کو اس تعلیمی سیزن میں اپنے طلبہ اور اساتذہ پر فخر ہے جو مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔